گناہ و ناجائز

غیر مسلم ملک کے مسلم باشندوں کا ٹیکس چوری کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
58420
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر مسلم ملک کے مسلم باشندوں کا ٹیکس چوری کرنے کا حکم

میں جاپان میں رہتا ہوں وہ ایک غیر مسلم ملک ہے، میں نے دیکھا ہے یہاں ہر مسلمان ٹیکس چوری کرتا ہے، ٹیکس چوری کرنے کے دو طریقے ہیں (1) نفع کم ظاہر کر کے (2) رسید نہ بنا کر، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ٹیکس چوری کرنا حلال ہے یا حرام ؟ براہِ کرم کسی حدیث کا حوالہ یا قرآنی آیت کا حوالہ نمبر بتادیں تا کہ میں خود بھی تصدیق کرسکوں، شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جاپان میں رہنے والے مسلم باشندوں کا ٹیکس سے بچنے کے لئے سوال میں مذکور دونوں طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کر کے حکومت کو دھوکہ دینا اور غلط بیانی وغیرہ سے کام لینا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ( سورۃ البقرۃ ایۃ 188)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النهى عن أكل مال الغير ومال نفسه( الی قولہ) فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان أحدهما ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم وقال ابن عباس والحسن أن يأكله بغير عوض الخ (3/127 باب التجارات وخيار البيع)۔
و فی صحیح البخاری: عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر " تابعه شعبة، عن الأعمش (1/16 رقم الحدیث 34)۔
و فی سنن ابن ماجہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ (3/337 رقم الحدیث 2224، بَابُ النَّهْيِ عَنْ الْغِشِّ )۔
و فی تکملۃ فتح الملھم: و ان المسلم یجب علیہ ان یطیع امیرہ فی الامور المباحۃ فان امر الامیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ و ان نھی عن امر مباح حرم ارتکابہ، ومن ھنا صرح الفقھاء بان طاعۃ الامام فیما لیس بمعصیۃ واجبۃ الخ (3/323 باب وجوب طاعۃ المرء)۔
و فی ردالمحتار: تحت مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية (الی قولہ) قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة الخ (2/127 باب العیدین)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم غلام خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58420کی تصدیق کریں
0     431
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات