کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں کے قریب ایک شخص ہے جو کہ اکثر ہمارے ساتھ بحث ومباحثہ کرتا رہتا ہے کہ نماز ، زکوٰۃ، حج وغیرہ عبادات جس طریقے پر آپ لوگ ادا کرتے ہیں،یہ زیادہ تر احادیث اور فقہ کی کتابوں سے ثابت ہے، لیکن اس طرح نہیں ہے اور احادیث کا کیا اعتبار ہے یہ تو غیروں نے آپﷺ کے بعد لکھی ہیں، اس پر کوئی اعتماد نہیں، یہ انہوں نے اپنی طرف سے بنائیں ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے ہمیں ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے منع کیا اور کہا کہ یہ منکرِ حدیث ہے تو کیا منکرین حدیث کافر ہیں یا گمراہ، یا بدعتی؟ علماءِ دیوبند کا ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اور ان کے مزید عقائد بھی بتائیں، تاکہ عام مسلمان ان کے فتنہ سے محفوط رہیں۔
جو لوگ تمام احادیث کا انکار کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور احادیث کو عجمی سازش قرار دیتے ہیں وہ اسلام سے خارج ہیں۔ اور اس پر تمام اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے اور تمام علماءِ دیوبند کا بھی یہی فتویٰ ہے، لہٰذا منکرینِ حدیث کے ساتھ نہ تو مناکحت جائز ہے، نہ اُن کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے معاملات کرنا جائز ہیں، اس لیے اِن تمام امور سے مکمل احتراز لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ منکرینِ حدیث کا مقصد صرف انکارِ حدیث تک محدود نہیں، بلکہ یہ لوگ اسلام کے سارے نظام کومخدوش کر کے ہر امر و نہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نمازوں کے اوقاتِ خمسہ، تعدادِ رکعات، فرائض و واجبات کی تفاصیل، نماز، روزہ کے مفصّل احکام، حج کے مناسک، قربانی، بیع وشراء، امورِ خانہ داری، ازدواجی معاملات اور معاشرت کے قوانین، ان سب امور کی تفصیل حدیث ہی سے ثابت ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کا بیان اجمالاً ہے، جس کی تفصیل احادیث میں ہے، اور یہ لوگ انکارِ حدیث کر کے ان سب تفاصیل اور پورے نظام کو بدلنا چاہتے ہیں، یہ لوگ اہلِ قرآن کہلواتے ہیں، لیکن قرآن میں اپنے مطلب کے مفاہیم و معانی بیان کر کے حقیقی مطالب اور مرادِ الٰہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، صحابہ کرامؓ، تابعین، محدثین اور فقہاء رحمہم اللہ کو قرآن کے خلاف سازش کرنے والے قرار دیتے ہیں، چونکہ قرآن کریم بھی ہم تک انہی بزرگوار ہستیوں کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اس لیے اس واسطے کو غیر معتبر قرار دےکر گویا قرآن کو ہی غیر معتبر قرار دینا چاہتےہیں۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو ان سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کی کسی بات پر علماءِ حقّہ سے پوچھے بغیر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ان کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین! واللہ اعلم!