کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت مولانا مشتاق احمد تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب علم الصرف میں ’’الإیمان‘‘ مصدر کا معنیٰ (خواہش کرنا) لکھا ہے بندہ کا عرصہ سے معارف القرآن کا ترجمہ پڑھنے کا معمول ہے۔ بندہ نے جہاں پر بھی ایمان کا ترجمہ پڑھا وہاں لفظِ ’’ایمان‘‘ ہی کے ساتھ ترجمہ کیا گیا ہے۔
اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ایمان کا ترجمہ مثلاً ’’آمنت بااللہ‘‘ کا ترجمہ (میں اللہ پر ایمان لایا) کی بجائے ( میں نے اللہ کو خوش کرنے کی خواہش کی) کر سکتے ہیں؟اس ترجمہ میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں؟ میری اس ترجمہ کی تصحیح کروانے کی سعی صرف اس لیے ہے کہ اس ترجمہ میں اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق اور اخلاص کا اظہار زیادہ ہے، جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے ،حضورﷺ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ایمان کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اخلاص، ویسے بھی اللہ کو خوش کرنے کی خواہش کے ذریعہ ہی لوگوں کو خواہشات کا پابند بنایا جا سکتا ہے، اس کےلیے رسولﷺ کا اتباع لازم کیا ہے، اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں، قرآن پاک کی آیت ’’قل ان کنتم الخ‘‘ میں اسی کانام اللہ کی محبت ہے، تمام انبیاء ِ کرام تمام خواہشات والوں کے مقابلے میں اسی کو سمجھانے کےلیے اللہ کو خوش کرنے کی خواہش لےکر آئے ہیں ان میں سے شہید ہو کر اپنے مزار کو پہنچے، باقی انبیاء کرام خواہشات والوں پر غالب ہوئے۔
بندہ کی اس ترجمہ کی تصحیح فرمانے کے ساتھ اس ترجمہ کو قبول بھی فرمالیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہےکہ ساری امت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
عربی زبان میں لفظِ ’’ایمان‘‘ کا معنی" تصدیق کرنا، مان لینا، اعتماد کرنا، یقین کرنا" کے آتے ہیں۔ (مصباح، المنجد، القاموس الوحید، المعجم الوسیط)-جبکہ قرآن وسنت میں جب لفظِ ایمان استعمال ہوتا ہے تو اس کا معنی ’’ھو تصدیق القلب بماجاء من عند الرب‘‘ کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو احکام لے کر آئے ہیں، جیسے اللہ کو ماننا، فرشتوں کو ماننا، آخرت کوماننا وغیرہ، دل سے اس کی تصدیق کی جائے اور آپﷺ پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو مانا جائے۔
جبکہ ایمان کا معنی ’’خواہش کرنا‘‘ کسی معتمد لغت کی کتاب میں باوجود جستجو او رکوشش کے ہمیں نہیں ملا اور نہ پرانے مستند علماء نے کسی آیت کا یہ معنی کیا ہے، لہٰذا قرآنی آیت کو یہ معنیٰ پہنانا درست نہیں۔
حضرت مولانا مشتاق احمد چرتھاولیؒ کی کتاب ’’علم الصرف‘‘ میں یہ معنیٰ لکھا ہوا ملتا ہے، شایدکتابت وغیرہ کی غلطی سے آگیا ہو اور موجودہ ایڈیشنوں میں اس کو درست کر کے لکھ دینے سے یہی واضح ہوتا ہے، لہٰذا تصحیح کے بعد اب بھی اس غلطی پر برقرار رہنا اس کو دلیل بنا کر ایمان کا معنی ’’خواہش کرنا‘‘، چاہے قرآن کریم میں ہو یا کسی دوسری عبارت میں، بالکل درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح: وهو التصديق الذي معه أمن، وطمأنينة لغة، وفي الشرع تصديق القلب بما جاء من عند الرب۔(1/ 50)-
وفی مشكاة المصابيح: عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم (إلی قوله) قال: فأخبرني عن الإيمان. قال: «أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره» . (1/ 9)-
و فی شرح رسالة العبودية لابن تيمية: أن الإيمان هو مجرد التصديق هي اللغة، فإنه يقول: إن الإيمان في لغة العرب هو مجرد التصديق. (15/ 4)-
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1