کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے اپنی بہو یعنی بیٹے کی بیوی کا حمل چار ماہ سے کم مدت کا اس بناء پر ساقط کروادیا تاکہ پہلے بچے کی تربیت صحیح طریقے سے ہو سکےاور یہ عمل عورت نے عدمِ علم کی وجہ سے کیا ہے، یعنی اُسے گناہ کا علم نہیں تھا ، براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ اس کا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟اور کتنی مدت کے اسقاطِ حمل پر گناہ ہوتا ہے؟ اور اگر اس عورت پر ضمان ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی؟
اگرچہ چارماہ سے کم مدت کے حمل کے اسقاط کی گنجائش ہے، مگر بلاوجۂ شرعی ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں، لہٰذا آئندہ کے لۓ ایسا کرنے سے احتراز اور اس مذکور عمل پر توبہ و استغفار چاہیۓ، اگر مجبوراً ایسا کرنا ہی پڑ جائے تو پورے حالات لکھ کر باضابطہ کسی مفتی صاحب سے حکمِ شرعی معلوم کر لینا چاہیۓ۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. (3/ 176)۔