گناہ و ناجائز

ٹی وی دیکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
60339
| تاریخ :
1999-10-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ٹی وی دیکھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ٹی وی دیکھنا منع ہے یا نہیں؟ کیا اس کا شمار بھی فوٹو گرافی میں ہوتا ہے ، جو منع ہے؟ کیا اس پر بحث ہوسکتی ہے یانہیں؟ میں نے مفتی محمد شفیع صاحب کو پڑھا ہے ان کا کہنا ہے کہ کیمرے سے فوٹو گرافی کرنا منع ہے ، اگر یہ منع ہے تو ٹی وی بھی منع ہونا چاہئے ، کیونکہ ٹی وی پر بھی تیزی سے دکھائی جانے والی سٹل تصاویر ہوتی ہیں، جو ہمارا دماغ حرکت کرنے والی تصویر سمجھ کر دیکھتا ہے۔ تفصیل سے جواب دیں، شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ دور میں ٹی وی بے شمار منکرات ، محرمات اور فواحشات پر مشتمل ہے اور اس سے معاشرہ میں بے حیائی ، بے غیرتی ، بے شرمی ، بے ادبی ، فحاشی اور دیگر جرائم نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور پھر چونکہ اس میں نامحرم مرد و عورتوں کی تصاویر بھی آتی ہیں، نیز مذکورہ بالا فواحشات و منکرات ٹی وی پروگراموں میں جُز ء لا ینفکّ (لازم) کی حیثیت بھی رکھتے ہیں ، اسلئے ان حالات میں ٹی وی کا خریدنا ، گھر میں رکھنا اور دیکھنا وغیرہ جائز نہیں ، بہر صورت اس سے احتراز لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60339کی تصدیق کریں
0     839
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات