کیا فرماتے ہیں علماءِکرام ومفتیانِ عظام ، اس بارے میں کہ مَیں ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کررہا ہوں ، گورنمنٹ نے کچھ عرصہ قبل کسی انشورنس کمپنی کے تعاون سے یہ اسکیم نکالی ہے کہ آئندہ ہر ملازم کی تنخواہ سے مبلغ 100/= روپے ماہانہ کاٹے جائیں گے ، اور یہ رقم مسلسل تین سال تک ماہانہ کاٹی جائے گی ،اس کے بعد یہ کٹوتی بند ہوجائے گی ، اگر ملازم نوکری سے ریٹائرڈ ہوجاتا ہے یا کسی بھی صورت میں وہ نوکری چھوڑدیتا ہے ، تو اس کو صرف اصل رقم ، جو تین سالوں میں کٹوتی کی گئی یعنی 3600/= روپے ملیں گے ، اور اگر خدانخواستہ ملازم کی ، سروس کے دوران یا ایک قسط بھی کٹنے کے بعد ، دورانِ سروس موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کے لواحقین کو مبلغ 100,000/= ایک لاکھ روپے ملیں گے ، اور یہ کسی ملازم کے اختیار میں بھی نہیں ہے کہ وہ یہ چاہے کہ میں اس اسکیم پر عمل نہیں کرنا چاہتا ، تو اس صورت میں یہ رقم جائز ہے یا نہیں؟
برائے کرم قرآن و حدیث کے ذریعہ ہماری راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور معاملہ انشورنس کی ہی ایک قسم ہے اور یہ جائز نہیں ، لہٰذا ملازم کے فوت ہونے کی صورت میں اس کے لواحقین ، فقط اتنی ہی رقم وصول کرسکتے ہیں جتنی ملازم اپنی زندگی میں بصورتِ قسط جمع کراچکا ہے، اس سے زائد رقم کا وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ، ان کیلئے جائز نہیں ، اگر کسی نے زائد رقم بھی وصول کرلی ہو ، تو اس پر واجب ہے کہ جمع شدہ رقم سے زائد رقم کو ، بغیر نیتِ ثواب کے ، فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0