کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی اولاد نہیں ہوتی ، کیا وہ اس غرض سے کہ اس کی اولاد پیدا ہوجائے کسی دوسرے تندرست آدمی کا خون لے سکتا ہے؟ جبکہ اس سے پہلے دو دفعہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے اس طور پر کہ ایک شخص کسی حادثے میں زخمی ہوا ، خون کی ضرورت کی وجہ سے دوسرے سے خون لیا ، بعد میں اس کو اللہ تعالیٰ نے اولاد دی ، جبکہ پہلے وہ اس نعمت سے محروم تھا ، اس کو دیکھ کر ایک اور شخص نے ایسا کیا تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اولاد دی ، بندہ سالہا سال اس نعمت کیلئے ترس رہا ہے ، کیا وہ اس محتمل صورت کو اختیار کرسکتا ہے؟
خون دینے سے اولاد ہونا محض احتمال کے درجہ میں ہے ، جس کی شرعی یا عقلی کوئی دلیل نہیں ، اس لئے مذکور غرض سے خون لینے سے احتراز چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے حصولِ اولاد کیلئے دعا کرتے رہنا چاہئے، تاہم اگر وہ کسی دوسرے سے اپنے گروپ کا خون لے لے اور اس کے بعد اس کے ہاں نعمتِ اولاد کا حصول ہوجائے تویہ اولاد بلاشبہ ثابت النسب شمار ہوگی۔