گناہ و ناجائز

اولاد کے لۓ ، بے بی ٹیسٹ ٹیوب کا طریقۂ علاج اختیار کرنا

فتوی نمبر :
60432
| تاریخ :
2009-02-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اولاد کے لۓ ، بے بی ٹیسٹ ٹیوب کا طریقۂ علاج اختیار کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان شخص جس کی تقریباً گیارہ سال سے کوئی اولاد نہیں ہے ، ڈاکٹرز اسے ٹیسٹ ٹیوب بے بی آپریشن کے بارے میں کہہ رہے ہیں ، علماءِ دین ، شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ ایک مسلمان شخص کیلئے اس (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) طریقہ کار میں کوئی قباحت تو نہیں؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر مسلمان اور ماہر معالج کے نزدیک ، حصولِ اولاد کے سلسلہ میں مذکور طریقہ کے علاوہ ، دوسرا کوئی علاج اور دواء وغیرہ ممکن یا موجود نہ ہو ، تو اس صورت میں ’’’ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘‘ کا وہ طریقہ ، جس میں شوہر کا مادۂ منویہ ، بیوی کے خلیوں کے ساتھ ملاکر اس کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہو ، اور یہ عمل اگر بیوی خود انجام دے یا اس کے شوہر کے ذریعہ کروایا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی التنزیل: لِلّٰہِ ملک السمٰوات و الارض یخلق ما یشاء یہب لمن یشاء اناثا و یہب لمن یشاء الذکور او یزوجہم ذکرانا و اناثا و یجعل من یشاء عقیما انہٗ علیم قدیر۔اھـ(سورۂ شوریٰ آیت: ۵۰)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60432کی تصدیق کریں
0     813
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات