گناہ و ناجائز

غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا انتخابات میں حصہ لینا

فتوی نمبر :
60453
| تاریخ :
1999-02-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا انتخابات میں حصہ لینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اس بات کی اجازت ہے کہ مسلمان جو کفرستان مثلاً امریکہ میں رہتے ہوں اور وہاں کے عام انتخابات میں حصہ لیں، اس میں غیر مسلم کو بھی ووٹ دینا شامل ہے، یا خود بھی الیکشن میں کھڑے ہوسکتے ہیں؟ امید ہے دلائل کے ساتھ جواب دے کر مشکور فرمائیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن و سنت کی روشنی میں ووٹ کی تین حیثیتیں ہیں ایک یہ کہ ووٹر (ووٹ دینے والا) جس ممبر اور نمائندہ کو ووٹ دے رہا ہے ،گویا اس کے بارے میں شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت، صلاحیت رکھتا ہے یہ امانتدار اور دیانتدار بھی ہے، اب اگر واقع میں اس شخص کے اندر یہ صفات نہ ہوں اور ووٹر کو معلوم بھی ہو تو اس صورت میں اس کا ووٹ دینا جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ اور دنیا و آخرت کا وبال ہے دوسری حیثیت شفاعت اور سفارش کی ہے کہ ووٹر متعلقہ شخص کے نمائندہ بننے کی سفارش کرتا ہے کہ اُسے ممبر منتخب کیا جائے قرآنِ کریم میں ہے فرمایا ’’کہ جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اسکی اچھائی میں سے اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور جو شخص بری سفارش کرتا ہے تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے‘‘ اور اچھی سفارش یہی ہے کہ کسی صاحبِ صلاحیت امانتدار اور دیانتدار آدمی کی سفارش کی جائے اور تیسری حیثیت یہ ہے کہ ووٹر اُس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے، لیکن وکالت اس کے کسی شخصی اور ذاتی حق کے سلسلہ میں ہو تو اس کا نفع اور نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا ہے اور اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہاں پوری قوم کے حقوق کے متعلق وکالت دی جارہی ہے کہ پوری قوم کے حقوق کی طرف سے یہ ہمارا وکیل ہے چنانچہ یہ شخص اگر نااہل ہے اور اُسے ووٹ دے کر کامیاب بنادیا تو ووٹروں کو بھی پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ ہوگا۔
اس اصولی تمہید کے بعد واضح ہو کہ اگر آپ کے یہاں کفرستان میں الیکشن کے دوران وہاں کے مسلمان باشندوں کو بھی نمائندگی دی جاتی ہو اور اس ممبر شپ اور نمائندگی میں حصہ لینے والا مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنے والا امانتدار اور دیانتدار بھی ہو تو بلاشبہ ایسے شخص کو ووٹ دینا جائز اور درست ہے، اگر وہ ان صفات کا حامل نہ ہو تو پھر وہاں کے مسلمانوں کو چاہئے کہ کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جو ان صفات کا حامل بھی ہو اور اس صورت میں تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے مسلمان کو ہی ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کریں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60453کی تصدیق کریں
0     973
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات