گناہ و ناجائز

’’راسلک‘‘ سے تیار کردہ کپڑوں کا استعمال

فتوی نمبر :
60454
| تاریخ :
1999-10-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

’’راسلک‘‘ سے تیار کردہ کپڑوں کا استعمال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا "را سلک "کے تیار کردہ کپڑوں کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ ایک پاکستانی نے" را سلک" کے کپڑے خریدے جس کی قیمت اٹھارہ سو روپے ہے، کیا یہ جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کہاں تک؟ تفصیل سے جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سلک اور ریشم میں فرق ہوتا ہے، سلک کا کپڑا مرد و عورت دونوں کیلئے استعمال کرنا جائز اور درست ہے، جبکہ خالص ریشمی کپڑا صرف عورت کیلئے جائز اور مرد کیلئے اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہے لہٰذا شخصِ مذکور نے اگر واقعۃً ریشمی کپڑے خریدے ہیں اور پہننے کا ارادہ کیا ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس سے احتراز کرے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ریشم ممنوع وہ ہے جو ریشم کے کیڑے سے نکلے ہوۓ مادے سےتیارکیا گیا ہو ، جبکہ موجودہ سلک مصنوعی ریشم کہلاتا ہے ، اس کا استعمال ممنوع نہیں، البتہ اس میں بھی ایسے سلک کے کپڑے پہننے سے احتراز بہتر ہے جو زنانہ کپڑوں کے مشابہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الہدایۃ: لا یحل للرجل لبس الحریر و یحل للنساء لان النبی ﷺ نہی عن لبس الحریر و الدیباج و قال انما یلبسہ من لا خلاق لہ فی الآخرۃ۔ اھـ (ج۴، ص۴۵۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60454کی تصدیق کریں
0     1591
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات