گناہ و ناجائز

ہم مسلک نہ ہونے کی بناء پر کسی کا مذاق اڑانا

فتوی نمبر :
60639
| تاریخ :
2003-03-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ہم مسلک نہ ہونے کی بناء پر کسی کا مذاق اڑانا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بھی حنفی مسلک سے منسلک شخص جو شریعت کا پابند ہو ، چاہے وہ کسی مذہبی جماعت کا امیر ہو یا کوئی پیر ہو ، اس کا مذاق اڑانا ، اس پر طنز کرنا ،بغیر کسی ثبوت کے بہتان لگانا ،صرف اس بنیاد پر کہ مذاق اور طنز کرنے والے کا تعلق اس مسلک سے نہیں ہے، وہ خود کو اس پیر یا جماعت کے امیر سے افضل سمجھتا ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں مختصر جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بھی مسلمان پر طنز کرنا ،اس کا مذاق اڑانا یا اس پر الزام تراشی اور بہتان وغیرہ لگانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، پھر یہی طرزِعمل کسی عالمِ دین اور مقتدی قسم کی شخصیات کے ساتھ کرنا اور اپنے آپ کو اس سے بہتر اور افضل سمجھنا اور بھی بُرا اور سخت گناہ کی بات اور قرآن و سنت کی واضح نصوص کے خلاف ہے، جس سے احتراز واجب اور جو کچھ اب تک ہو چکا ہے اس پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار اور متعلقہ شخص سے معذرت کرنا بھی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح البخاري: عن عبد الله، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم- : «سباب المسلم فسوق، و قتاله كفر۔(8/ 15)۔
و فی مشكاة المصابيح: و عن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «أيما رجل قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما» . متفق عليه(3/ 1356)۔
و فی صحيح البخاري: عن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: «لا يرمي رجل رجلا بالفسوق، و لا يرميه بالكفر، إلا ارتدت عليه، إن لم يكن صاحبه كذلك۔(8/ 15)۔
و فی الفتاوى الهندية: ويخاف عليه الكفر إذا شتم عالما، أو فقيها من غير سبب، و يكفر بقوله لعالم ذكر الحمار في است علمك يريد علم الدين كذا في البحر الرائق(2/ 270)۔
و فی شرح الفقه الأکبر: و فی الخلاصة من أبغض عالماً من غیر سبب ظاہر خیف علیه الکفر، قلت: الظاہر انه یکفر لانه اذاابغض العالم من غیر سبب دنیوی أواخروی فیکون بغضه لعلم الشریعة و لاشك فی کفر من انکرہ فضلاً عمن ابغضه الخ (ص:۱۷۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60639کی تصدیق کریں
0     1056
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات