السلام علیکم!
مفتی صاحب پوچھنا یہ تھا کہ میں ایزی پیسہ ایزی لوڈ بجلی کے بل وغیرہ اداکرنے کا کام کرتا ہوں ،جس میں قسطیں وغیرہ بھی ہوتی ہیں، جو کہ لوگوں نے سود وغیرہ پر لی ہوتی ہیں، کمپنیوں نے ہمیں یہ سہولت دی ہوئی ہے کہ یہ قسطیں ہم ادا کر سکتے ہیں ،کیا یہ قسطیں وغیرہ ادا کرنا ہمارے لئے جائز ہے کہ نہیں؟ شکریہ
سائل کو اگر کسی کے متعلق یہ علم نہ ہو ، کہ وہ سودی قسطیں جمع کر رہا ہے ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہ قسطیں جمع کرانے میں تو کوئی کو مضائقہ نہیں ، البتہ اگر سائل کو کسی کسٹمر کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ سودی قسطیں جمع کرا رہا ہے ، تو پھر سائل کے لئے ایسے شخص کی سودی قرض کی قسطیں خود جمع کرانے اور اس سے اپنا کمیشن لینے سے احتراز کرنا چاہئیے۔
ففي سنن أبي داود: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «ليأتين على الناس زمان لا يبقى أحد إلا أكل الربا، فإن لم يأكله أصابه من بخاره» قال ابن عيسى: «أصابه من غباره» اھ (3/ 244)۔
و في مرقاة المفاتيح عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) رواه مسلم (الى قوله) ولا كذلك الآكل (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) ، أي: النبي - صلى الله عليه وسلم - (هم سواء) ، أي: في أصل الإثم ، و إن كانوا مختلفين في قدره (رواه مسلم) اھ( 5/ 1916)۔
و في الهداية شرح البداية: لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه ولا يعتبر الوصف لأنه لا يعد تفاوتا عرفا أو لأن في اعتباره سد باب البياعات أو لقوله عليه الصلاة والسلام جيدها ورديئها سواء اھ (3/ 61)۔
و في فقه البيوع: وان الكهرباء والغاز اصبحا اليوم من اعز الأموال التي يجرى فيها التنافس ويصعب ادخالها في الأعيان القائمة بنفسها و مع ذلك يجوز بيعهما وشرائهما و قد تعامل الناس بذلك من غير نكير اھ
و في هامشه: وقد ذكر الشيخ اشرف على التهانوى - ان الكهرباء مال اھ (۱/ ۲۷)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1