سود

سودی قسطیں وغیرہ وصول کرنا

فتوی نمبر :
61083
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / سود

سودی قسطیں وغیرہ وصول کرنا

السلام علیکم!
مفتی صاحب پوچھنا یہ تھا کہ میں ایزی پیسہ ایزی لوڈ بجلی کے بل وغیرہ اداکرنے کا کام کرتا ہوں ،جس میں قسطیں وغیرہ بھی ہوتی ہیں، جو کہ لوگوں نے سود وغیرہ پر لی ہوتی ہیں، کمپنیوں نے ہمیں یہ سہولت دی ہوئی ہے کہ یہ قسطیں ہم ادا کر سکتے ہیں ،کیا یہ قسطیں وغیرہ ادا کرنا ہمارے لئے جائز ہے کہ نہیں؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر کسی کے متعلق یہ علم نہ ہو ، کہ وہ سودی قسطیں جمع کر رہا ہے ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہ قسطیں جمع کرانے میں تو کوئی کو مضائقہ نہیں ، البتہ اگر سائل کو کسی کسٹمر کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ سودی قسطیں جمع کرا رہا ہے ، تو پھر سائل کے لئے ایسے شخص کی سودی قرض کی قسطیں خود جمع کرانے اور اس سے اپنا کمیشن لینے سے احتراز کرنا چاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي سنن أبي داود: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «ليأتين على الناس زمان لا يبقى أحد إلا أكل الربا، فإن لم يأكله أصابه من بخاره» قال ابن عيسى: «أصابه من غباره» اھ (3/ 244)۔
و في مرقاة المفاتيح عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) رواه مسلم (الى قوله) ولا كذلك الآكل (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) ، أي: النبي - صلى الله عليه وسلم - (هم سواء) ، أي: في أصل الإثم ، و إن كانوا مختلفين في قدره (رواه مسلم) اھ( 5/ 1916)۔
و في الهداية شرح البداية: لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه ولا يعتبر الوصف لأنه لا يعد تفاوتا عرفا أو لأن في اعتباره سد باب البياعات أو لقوله عليه الصلاة والسلام جيدها ورديئها سواء اھ (3/ 61)۔
و في فقه البيوع: وان الكهرباء والغاز اصبحا اليوم من اعز الأموال التي يجرى فيها التنافس ويصعب ادخالها في الأعيان القائمة بنفسها و مع ذلك يجوز بيعهما وشرائهما و قد تعامل الناس بذلك من غير نكير اھ
و في هامشه: وقد ذكر الشيخ اشرف على التهانوى - ان الكهرباء مال اھ (۱/ ۲۷)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سہیل میرولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61083کی تصدیق کریں
0     346
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات