جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
میراسوال مثلا تھوڑا لمبا ہے، اس لئے تفصیل سے بیان کرونگا ،تاکہ غلطی کی گنجائش باقی نہ رہے میرا ایک سالا ہے ،جو بچپن میں والدین کا نافرمان رہا، والدین غریب اور دونوں ہی بیمار تھے ،اور دوسری اولاد کا بوجھ بھی سر پر تھا کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ، جب کوئی خیرات یا زکاۃ کے پیسے دے دیتا ، تو والدہ سے نکالنے کے لئے اسے اذیت دیتا کہ وہ پیسہ اسے دیا جائے ،تاکہ وہ اسے اپنی عیاشیوں میں اڑا سکے کئی دفعہ بجلی کے کرنٹ لگا کر پیسہ نکلوا لیتا، یہ حالات دیکھ کر میں جو کہ ان کا داماد تھا ،میں نے اپنی ساس سسر اور ان کے بچوں کی کفالت اپنے ذمے لے لی کئی سال تک بالآخر سسر زیادہ بیمار ہت، علاج معالجے کے بعد آخر وہ خالق حقیقی سے جاملے ۔ پیچھے رہ گئی ساس اور اس کے 4 بچے ان کی پرورش میرے ہی ذمے تھی ، اب بھی 3 سال بعد ساس بیمار ہوئی کافی علاج معالجے کے بعد وہ بھی فوت ہوگئی، اس کا کفن دفن سب میرے ذمے ،اب رہ گئے 4 بچے جن میں یہ لڑکا بھی ہے، 3 میرے پاس رہ گئے یہ بڑا لاپرواہ گومتا تھا کہ ایک دن باہر کچھ بندے گھر آئے کہ اس لڑکے نے ہم سے قریباً پانچ لاکھ روپے کی چوری کی ہیں ، ہم نے پوچھ گچ کی لڑکا نہیں مانا، آخر پنجایت بیٹھ گئی ،جن کے سامنے لڑکا آئے شائے کرنے لگا، بہرحال پنجایت نے لڑکے کو مجرم قرار دے کر مالک کو پیسہ واپس کرنے کا حکم دیا ، لڑکے نے کہا کہ پیسہ میرے پاس نہیں ہے، پیسے کے بدلے میری بہن لے لے ، جس پر میرے والد محترم نے اعتراض کیا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے، اس کو پیسے ہی دینگے، جس کے لئے مجھے تھوڑا ٹائم چاہیئے ،ٹائم مل گیا ، اس کے بعد میرے والد نے گاؤں ہی میں کسی اچھے گھرانے میں 6لاکھ روپے کے عوض لڑکی کا رشتہ طے کیا ،چونکہ ہمارے ہاں والدین جہیز نہیں دیتے ،بلکہ شوہر سے لیتے ہیں ،اب ان پیسوں سے وہ پیسہ بھی دیا گیا، جو اس کے بھائی کے ذمے پنجایت کے حکم سے واجب الادا تھا ،اور باقی پیسوں سے لڑکے کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنایا ،تاکہ اس کو بیرون ملک بھیجا جا سکے،جو پیسہ بچ گیا وہ لڑکی کی شادی میں خرچ ہو گیا ،اب کچھ عرصے بعد لڑکے نے میرے والد کے پاس ثالث بھیجے کہ مجھے میرا پیسہ دیدو، جو کہ آپ نے میری بہن کے شادی کے عوض لیا تھا ، میرے بابا نے کہا وہ پیسے تو خرچ ہوگیا تو بیٹھ کر حساب کرتے ہیں، اگر میرے پاس بچ گیا ہے تو میں دید ونگا ،لیکن جب آپ میں اتنی عزت اور احترام نہیں، تو حساب پھر پورا کرتے ہیں، جب بیٹھ گئے ،تو لڑکا حساب سے بھاگ گیا کہ حساب میں نے نہیں کرنا، مجھے بس دبئی کا ویزہ دلوا دے، میرے بابا نے کہا کہ وہ تیرے کہے بغیر ہم ایسا کرینگے،تاکہ تم کمانے لگ جاؤ ،انسان بن جاؤ اور اپنے دوسرے چھوٹے بھائی بہنوں کی کفالت کا ذمہ خود اٹھالو ، بابا نے مجھے کہا کہ اس کو ویزہ دلوادو ،میں نے کہا ٹھیک ہے ،مجھے اچھی کمپنی ملتی ہے تو ویزہ نکلوا دونگا، اس اثنا کرونا آگیا اور دنیا بند ہو گئی، ادھر ساری دنیا بند ہے اور اس نے میرے بابا کے خلاف کیس دائر کیا، جس میں وہ مغالطات، بکواس ، ماں بہن کی گالیاں ، دھمکیاں نہ جانے اور کیا کیا، جس پر ساری برداری نے ناراضگی کا اظہار کیا، یہاں تک کہ میرے بابا کو طعنے بھی دیے گیے کہ تم اس آستین کے سانپ کو پال رہے تھے، بابا کہتا میں کیا کرتا کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا ،پھر کافی وعظ و نصیحت کی ،جو اس کے قریب تھا سب کے ذریعے، لیکن اس نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہوئی ہے ، اب بات یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ وہ اسلحہ گماتا ہے، ہم سب کو قتل کی دھمکیاں دیتا ہے، لوگوں کے ذریعے فیس بک میں، کال کرکے اور ہم اگنور کرتے جا رہے ہیں ابھی تک ، اب وہ اپنی بہن کو گالیاں دینے لگا ،وہ گالیاں کہ شوہر کو بھی جائز نہیں کہ بیوی کو دیں ، اب میرا سوال یہ ہے جس پر مجھے فتویٰ چاہیئے کہ اس ساری تفصیل کی روشنی میں جو میں نے بیان کی یہ لڑکا واجب القتل ہے ؟یا میں خود اپنے اور بچوں کے یا والد کے یا بھائیوں کے اس کے ہاتھوں قتل ہونے کا انتظار کروں ؟ یا اس کے ہاتھوں سے اپنے خاندان کے عزت کے کپڑے اتارنے کا انتظار کرو ؟ یا میں ان سب کو بچانے کی خاطر کوئی اقدامی قدم اٹھا سکتا ہوں ؟ میں کیا کروں مجھے پلیز فتویٰ دو ۔ اور میری آخرت اور دنیا کو بچالو ۔ شکریہ
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح بھی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کا نہ لیا گیا ہو تو سائل کے سالے کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں، جس سے مذکور سالے کو اجتناب لازم ہے،تاہم ایسی صورت میں بھی سائل کا سالہ واجب القتل نہیں ،اور نہ ہی سائل کے لئے اس کو قتل کرنا شرعاً جائز ہے،البتہ سائل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، جس کے لئے وہ ہوشیار و بیدار رہے ،اور قانونی اسلحہ ساتھ رکھ سکتا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ اپنی جان کی حفاظت کی خاطر اس کے خلاف قانونی کاروائی بھی کر سکتا ہے ، تاکہ سائل سمیت دیگر لوگ بھی اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں ۔
كما في قول الله تعالى : {وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا } [الإسراء: 33]۔
و في تفسير تفسير روح المعاني: وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ أي حرمها الله تعالى، والمراد حرم قتلها بأن عصمها بالإسلام أو بالعهد إِلَّا بِالْحَقِّ متعلق بلا تقتلوا والباء للسببية والاستثناء مفرغ أي لا تقتلوها بسبب من الأسباب إلا بسبب الحق اھ (8/ 67)۔