میرا سوال یہ ہے کہ میری خلع ہو چکی ہے، اگر میں بوجہ مجبوری عدت نہ کروں، اور 2 یا 3 سال بعد شادی کروں، تو کیا وہ نکاح جائزہو گا؟ کیونکہ میرا کوئی سہارا نہیں ہے، ماں باپ بہن بھائی کوئی نہیں ہے ، اور میں اپنی خود کفیل ہوں، میر ادو سرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی نانی کے گھر رہتی ہوں ، کیا میرے سوتیلے نانا سے بھی میرا پردہ ہو گا، وہ میری نانی کے دوسرے شوہر ہیں، اور ان کی عمربھی میری نانی سے کم ہے۔
سائلہ اور اسکے شوہر کے درمیان اگر باہمی رضامندی سے خلع ہو چکی ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ پر شرعا گھر میں رہ کرعدت(تین ماہواریاں ) گزار نالازم ہے ، اور اس دوران زیب وزینت چھوڑ دینا اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلنا وغیرہ عدت کے احکام میں شامل ہیں ، اوران احکام کو پورا کر نالازم اور اس کے خلاف کرنا گناہ ہے، تاہم اگر واقعۃً سائلہ کی کفالت کرنے والاکوئی نہ ہو تو بامر مجبوری سائلہ کو طلب معاش کیلئے شرعی پردے کا اہتمام کرتے ہوئے صرف دن کے وقت میں گھر سے نکلنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ عدت گزرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
جبکہ سائلہ کے سوتیلے نانا سائلہ کے محارم میں سے ہے، جس سے خوف فتنہ نہ ہو تو پردہ کر نا بھی شر عاضروری نہیں۔
کما فی الھندیة: رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة اھ(1 /526)
وفیھاایضاً: (القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق: (الأولى) أمهات الزوجات وجداتهن من قبل الأب والأم وإن علون (والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم، كذا في الحاوي القدسي سواء كانت الابنة في حجره أو لم تكن اھ(1/ 274)
وفی مختصر الفقه الاسلامی فی ضوء القرآن والسنة: لعدة واجبة على كل امرأة فارقها زوجها أو مات عنها بعد خلوته بها، سواء كانت الفرقة بطلاق، أو خلع، أو فسخ؛ لتعرف براءة رحمها بوضع حمل، أو مضي أقراء، أو أشهر. اھ(850)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0