گناہ و ناجائز

شادی شدہ شخص سے تعلقات قائم کرنا

فتوی نمبر :
6219
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شادی شدہ شخص سے تعلقات قائم کرنا

مفتی صاحب! میں بہت گناہ گار ہوں، اللہ جی میرا پردہ رکھے پچھلے تین سالوں سے میں ایک شادی شدہ مرد جو چار بچوں کا باپ ہے اس سے پیار کرتی ہوں شروع سے ہی وہ مجھے کہتے تھے کہ خفیہ نکاح کر لیتے ہیں، لیکن میں ہمیشہ منع کرتی تھی، تقریباً دو سال سے ہمارا جسمانی تعلقات ہے اور ہم وقت خاوند اور بیوی کی طرح گزارتے ہیں مگر آخری حد تک نہیں پہنچے اس لیے میں باکرہ ہوں میں نے بڑی مشکل سے اپنے گھر والوں کو شادی کے لیے منا لیا تھا، پھر جب اس نے اپنی ماں سے بات کی ہماری شادی کے بارے میں تو اس کی ماں نے منع کر دیا اور بیوی نے بھی اجازت نہیں دی، اب وہ مجھ سے کہتا ہے کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتا اور اللہ نے بھی ماں کی نافرمانی سے سخت منع فرمایا ہے، میرے گھر والوں نے بھی اس سال میری منگنی کر دی ہے، پَر میرا دل نہیں مانتا کہ میں کسی کے ساتھ دھو کہ کروں میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔ میں نے اسے کہا کہ وہ صرف مجھ سے نکاح کرلے میں اس کو اپنے تمام حقوق سے معاف کر دوں گی، لیکن پھر بھی وہ نہیں مانتا مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں ؟ اسلام نے انصاف کی شرط رکھ کے چار شادیوں کی اجازت دی پھر لوگ اس کو گناہ کیوں سمجھتے ہیں۔ گناہ کرتے رہو تو کچھ نہیں کہتے اس کو جائز کرنے لگو تو سب غصہ ہو جاتے ہیں، اس کی ماں کی فرمانبرداری کرنے سے چاہے میری پوری زندگی تباہ ہو جائے تو کیا اس کا گناہ اس کو نہیں ہوگا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اللہ کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کرتے یہ ہمارے برے اعمال ہوتے ہیں جن کی ہمیں سزا ملتی ہے، اس لئے میں اس کی یہ بات نہیں مانتی کہ اس میں الله کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی گناہ ہم کریں اور پھر یہ سوچیں کہ اس میں اللہ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی کیا یہ صحیح ہے ؟ مہربانی فرما کر جلد جواب دینا ۔ شکریہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اس میں شک نہیں ہے کہ سائلہ اور مذکور شخص باہم غیر محرم ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور بے تکلفی اختیار کرنے کی وجہ سے گناہگار ہوئے ہیں ان دونوں پر اولاً تو یہ لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائز عمل پر ندامت کیساتھ بصدقِ دل توبہ یہ و استغفار کریں اور ثانیاً یہ کہ آئندہ کیلئے ایسے ناجائز امور سے مکمل طور پر احتراز بھی کریں، اور یہ کہ باہمی تعلقات کو فوری طور پر ختم بھی کریں۔
پھر جب اس کے والدین اس کے لئے باقاعدہ جائز طریقے سے شادی کا انتظام کر رہے ہیں تو اسے چاہئیے کہ والدین کے رشتے سے انکار نہ کرے، بلکہ اسے ترجیح دے کر اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی فکر کرے، پھر جس طرح شخصِ مذکور اپنے والدین کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی سے معذرت خواہ ہے، اسی طرح سائلہ کو بھی اپنے والدین کی عزت کا خیال رکھنا چاہئیے ۔ دعا ہے کہ رب کریم اس کے لئے بہتر مستقبل کا فیصلہ فرمائے اور اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي مشكاة المصابيح: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم» (2/ 773)۔
وقال الله تعالى فى القرآن المجيد: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [التحريم: 8]۔
وکمافی سنن الترمذي: عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد» (4/ 310)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ مرغوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6219کی تصدیق کریں
0     447
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات