السلام علیکم!
واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا ہمارے آفس میں کچھ لڑکیاں جو کہ غیر مسلم ہیں ،انہوں نے اپنی ایکسل دوست کو خوش کرنے کے لئے عبایا پہنا ایک دن کے لئے ، اس بات پر منیجر نے اس بات کو اسلام کی خلاف ورزی سمجھا اور تینوں لڑکیوں سے عبایا اتروایا آفس کے دورانیہ میں ، آفس والوں نے اس بات کو اسلام کی گستاخی سے مشابہت دی ۔
سوال: چاہے ان غیر مسلم لڑکیوں نے مزاح میں پہنا ہو یا اچھی نیت سے، ہمیں اسلام کیا حق دیتا ہے کہ ہم کسی کا عبایا اتروا سکتے ہیں یا نہیں ؟
سوال 2: منیجر نے یہ فیصلہ کیا کہ ان غیر مسلم لڑکیوں سے عبایا اتر وائیں، اور منیجر نے خود کو اسلام کا دعویدار سمجھا،ان کے خلاف کیا فیصلہ ہونا چاہیئے کہ کل کو یہ اسلام کےنام پر کسی اور کی تذلیل نہ کریں۔
واضح ہو کہ شریعتِ مطہّرہ میں جس طرح مسلمان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح اسلامی مملکت میں رہنے والے غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، اور ان کو بلا وجہ تنگ کرنے اور اذیت و تکلیف پہنچانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے ، چنانچہ اس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مذکور لڑکیوں کا عبایا پہننے سے اگر اسلامی اقدار کی توہین و استہزاء مقصود نہ ہو (جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے) ، بلکہ کسی اچھی غرض سے انہوں نے ایسا کیا ہو تو آفس مینیجمنٹ کا بغیر کسی ثبوت کے ان کے اس عمل کو اسلام کی اہانت اور گستاخی کا مترادف (مشابہ ) قرار دے کر ان سے عبایا اتر وانا قطعاً درست نہیں تھا، بلکہ مینیجمنٹ کا یہ عمل اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو بد ظن کرنے کے مترادف ہے، لہذا آفس مینیجمنٹ کو چاہیئے کہ مذکور لڑکیوں کی دل آزاری پر ان سے معذرت کریں اور آئندہ کے لئے ایسے امور سے اجتناب کرنے کی کوشش کریں۔
ففي سنن أبي داود: أن صفوان بن سليم، أخبره عن عدة، من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن آبائهم دنية عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة» اھ (3/ 171)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتحرم غيبته كالمسلم) لأنه بعقد الذمة، وجب له مالنا فإذا حرمت غيبة المسلم حرمت غيبته بل قالوا: إن ظلم الذمي أشد اھ (4/ 171)۔والله اعلم بالصواب