گناہ و ناجائز

رشتہ نہ دینے سے متعلق نزاع کا حکم

فتوی نمبر :
62775
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

رشتہ نہ دینے سے متعلق نزاع کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام !
میرا نام عبدالکریم جانوری چانڈیو ہے ، الحمد للہ اب میری بیٹی عالمہ بن چکی ہے ، جب مدرسہ میں پڑھ رہی تھی تو اسکے رشتے کے لیے میری بیوی نے باپ شریک بھتیجے بھائی سعید کو کہا تھا کہ اگر تم بھی سعید بیٹے عالم بنو ، تبلیغ میں چار ماہ لگاؤ ، دیندار بنو، نمازی بنو ، داڑھی رکھو ، جب میری بیٹی عالمہ بنے ، تو میں آپکو اپنی بیٹی کا رشتہ دونگی ، کیونکہ لڑکی اگر عالمہ ہو تو کوشش کرنی چاہیئے شادی بھی کسی دیندار عالم سے ہونی چاہیئے ، اسکے بعد جب میری بیٹی الحمد للّہ عالمہ بن گئی ، تو بھائی سعید کا یہ حال تھا کہ نہ سعید بیٹے نے مدرسہ میں داخلہ لیا ، نہ تبلیغ میں چار ماہ لگائے ، نہ داڑھی رکھی اور نہ ہی پکے نمازی بنے ، اس بات پر ہمارا دل خراب ہوگیا ، میں نے سعید والوں کو رشتہ کرنے کا جواب دیدیا ، پھر ہم نے ایک عالم دین کے ساتھ رشتہ کرنا چاہا ، ہمیں عالم دین رشتے کی تلاش تھی تو ہمیں ایک عالم دین مل گیا ، جس کا نام بھائی اصغر علی ہے ، جب میں بھائی اصغر علی سے رشتہ کر رہا تھا، تو میں نے اپنی بیوی سے اور اپنی عالمہ بیٹی سے مشورہ کیا کہ بیٹی آپ کا رشتہ اپنے کزن بھائی سعید سے کروں یا عالم دین اصغر علی سے کروں ؟ بھائی اصغر علی عالم دین تو ہیں، لیکن عمر میں آپ سے بہت بڑا ھے ، اور سعید بھائی تقریبا آپکے عمر کے بھی ہے اور رشتے میں آپکے باپ شریک کزن بھی ہے ، میرا اور میری بیوی اور میری بیٹی کا آپس میں مشورہ ہوا ، جس مشورے میں میری بیٹی نے صاف دوٹوک جواب دیدیا کہ میں سعید سے نکاح نہیں کرونگ ،ی کیونکہ وہ عالم نہیں ہے، اور میں شادی عالم دین سے کرونگی مجھے بنات مدرسہ میں پڑھانا ہے ، اگر اصغر علی عمر میں مجھ سے بڑے ہے، تو کیا ہوا ، دیندار عالم دین تو ہے ، مجھے مدرسہ پڑھانے میں اور شرعی پردہ کرنے میں آسانی لگے گی ، حدیث پاک میں بہت تاکید ہے کہ نکاح دینداری کی بنیاد پر کرو ، پھر مشورہ میں میں نے تہہ کیا کہ ہم عالم دین بھائی اصغرِ علی رشتہ کریں گے ،اور سعید بھائی کو رشتے کا جواب دیدیا ، بھائی اصغر علی سے رشتے کی الحمدللہ بات پکی ہوگئی ، جب بھائی اصغر علی سے نکاح کی بات تہہ کر رہے تھے ، تو اتنے میں سعید بھائی کے چچا جو باپ شریک چچا ھے، سگا چچا نہیں ، جس کا نام بھائی غلام مصطفی ہے ، اس نے اعتراض کیا کہ ہم یہ رشتہ نہیں ہونے دینگے ۔
یہ لڑکی میرے بھتیجے سعید کی منگیتر ہے ، ہم نے پوچھا بھائی آپکے بھتیجے کی منگیتر کیسے ہوگئی ، تو غلام مصطفی نے کہا آپنے کہا تھا سعید تبلیغ میں جائے داڑھی رکھے نمازی بنے تو رشتہ دیں گے ، تو ہم نے پوچھا تو بھائی سعید تو نہ تبلیغ میں گیا ہے نہ داڑھی رکھی ہے نہ پکا نمازی بنا ہے ، اس پر غلام مصطفی نے کہا آپ نے کہا تھا ہم رشتہ دینگے بس اس بات پر یہ ہماری منگیتر ہوگئی ، داڑھی نہیں رکھی تبلیغ میں نہیں گیا پکا نمازی نہیں بنا تو کیا ہے ، اب تبلیغ میں جائے گا ، آپکو میں یہ رشتہ نہیں کرنے دونگا ،یہ لڑکی سعید کی منگیتر ہے ، غلام مصطفی نے عالم دین بھائی اصغر علی کو بھی مختلف لوگوں سے پیغام بجھوایا کہ یہ لڑکی ہماری منگیتر ہے ، آپ یہ رشتہ نہ لینا ، بھائی اصغر صاحب نے ہم سے پوری بات پوچھی معلوم کی تو میں نے ساری بات بتائی کہ نہ باقائدہ کوئی رشتہ کی بات پکی ہوئی ہے ، نہ کوئی بھائی مٹھائی تقسیم کی ہے ، نہ کوئی بھی رسم پوری کی ، نہ دودھ پیا ہے ، ہمارے ہاں جب رشتے کی پکی بات ہوتی ہے ، تو دودھ پلاتے ہیں ، نہ لڑکے والوں نے کبھی کوئی خرچی بھیجی ھے ، بس صرف ہم نے کھا تھا سعید عالم بنے تبلیغ میں جائے داڑھی رکھے پکا نمازی بنے تو ہم ان شاء اللہ رشتہ کرینگے ، سعید بھائی نے کوئی بات پوری نہیں کی ، ہم نے اسکو رشتے کا جواب دے دیا ہے ، اور آپ سے رشتہ کرتے ہیں، اس پر غلام مصطفی یہ مسئلہ کر رہا ہے ، بھائی اصغرعلی بھی بڑے حیران ہوگئے کہ اتنی سی بات پر منگیتر کیسے ہوگئی ، خیر بھائی اصغر علی کو ہم نے تسلی دی اور میری بیٹی کا بھائی اصغر علی سے نکاح ھوگیا ، اور رخصتی نہیں ہوئی ہے ، اب بھائی غلام مصطفی کہتا ہے ، میں اصغر علی اور اس کی بیوی کو اور عبدالکریم کو اور عبدالکریم کی بیوی کو اور بیٹیوں کو سب کو قتل کرونگا ، اب پوچھنا یہ ہے کہ (1) میں نے اپنی بیٹی کا نکاح اصغر علی کے ساتھ کیا ہے یہ نکاح شریعت محمدی میں کیسا نکاح ہے صحیح ہےیا غلط ہے ؟ (2) مجھے اپنی بیٹی کا اسکی رضا سے نکاح کرنے کا شرعی حق ہے ، یا یہ کہ شریعت محمدی میں میری غلطی ہے ؟ (3) بھائی شریعت محمدی کے مطابق غلام مصطفی کو یہ حق حاصل ہےکہ بھائی اصغر علی کو نکاح کرنے سے روکے اور اتنی بات پر منگیتر ر کھتے ہوئے نکاح سے اعتراض کرسکتا ہے اور دمکانے کی اسکو شریعت میں اجازت ہے ؟(4) اور بھائی اصغر علی شریعت محمدی میں پابند ہےکہ غلام مصطفی کے کہنے پر نکاح نہ کرے ؟ (5) اصغرعلی نے غلام مصطفی کے منع کرنے کہ باوجود پھر بھی نکاح کیا تو اس بات پر شریعت محمدی میں بھائی اصغر علی غلام مصطفی کا مجرم ہے یا غلام مصطفی نکاح سے روک کر مجرم بن رہا ہے ؟ (6) اب غلام مصطفی کہتا ہے نکاح توڑو ورنہ میں بہت لوگوں کو قتل کرونگا لڑکی کے والد کو بھی اور لڑکی کی والدہ کو بھی اور لڑکی کے بھائیوں کو بھی اور لڑکی کے خاوند کو بھی سب کو قتل کرونگا ، یہ بھائی غلام مصطفی کا دمکانا شریعت محمدی میں کیسا ہے جائز ہے نا جائز ہے؟ صحیح ہےیا حرام ؟ (7) اگر اس بات پر غلام مصطفی اگر کسی کو قتل کرے تو غلام مصطفی کیلئے شرعی حکم کیا ہے (8) جس کو غلام مصطفی قتل کرے تو اس کیلئے شہید کا درجہ ہے یا نہیں ؟ (9) غلام مصطفی کے دمکانے سے بھائی اصغر علی شریعت محمد میں پابند ھے کہ بیوی کو طلاق دے؟ (10) اب غلام مصطفی کہتا ہے کہ اصغر علی بیوی کو طلاق دے ، تو اب اصغر علی کو طلاق دینی چاہیے یا غلام مصطفی کو توبہ کرنی چاہیئے ؟ بینوا توجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر سائل نے مسمیٰ سعید سے مذکور عذر کی بنا ء پر منگنی ختم کرکے لڑکی کی رضامندی سے مسمیٰ اصغر علی صاحب سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے نکاح کرالیا ہو ،تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے ، اور شوہر پر اپنی بیوی کو طلاق دینا شرعا لازم نہیں ،جبکہ مسمیٰ غلام مصطفیٰ کا اس نکاح پر اعتراض کرنا اور اس کی وجہ سے سائل اور اس کے گھر والوں اور داماد کو قتل کی دھمکی دینا ، اور شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کرنا شرعا ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہا ہے ،لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنی اس غلط حرکت سے باز آئے اور اپنی آخرت برباد نہ کرے ، تاہم سائل کو چاہیئے کہ خاندان کے معزز اور بااثر شخصیات کو درمیان میں لاکر اس معاملہ کو حل کر نیکی کوشش کرے ، اور ساتھ اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت کی دعا کرتا رہے ،ان شاء اللہ امید ہے کہ معاملہ حل ہوجائے ،جبکہ بوقت ضرورت اپنے تحفظ کیلئے قانونی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات بغیر مااکتسوا فقد احتملوا بھتٰانا واثما مبینا (الاحزاب:58 الآیۃ )
و فی تفسیر القاسمی : تحت ھذہ الآیة: فی الاکلیل: فی ھذہ الآیة تحریم اذی المسلم الا بوجه شرعی کالمعاقبة علی ذنب، فی الآیة کل ما حرم للایذاء الخ (111/8)
و فی الشامیة: قال فی شرح الطحاوی: لوقال ھل اعطیتنہا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد و ان کان للعقد فنکاح اھ (11/3)۔
و فی الھدایة : النکاح ینعقد بالایجاب و القبول بلفظین یعبر بہما عن الماضی اھ ( 305/2) واللہ اعلم۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 62775کی تصدیق کریں
0     884
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات