السلام علیکم
جناب میں بنگلہ دیش سے عبدالکریم ہوں , مجھے کچھ بہت ضروری جاننا ہے , قرض کی وجہ سے , غربت کی وجہ سے جسم فروشی یا جسم فروشی میں ملوث ہونا یا کسی دوسرے شخص کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے معاہدے میں زنا کرنا , اگر کوئی عورت , مرد سرپرست کے بغیر قرض لے جس سے اس کے دو راستے کھلے ہوں۔
1) خودکشی کرنا۔
2) جسم فروشی
ایسی مشکل میں اس عورت کا کیا حکم ہے؟
اور اگر عورت اپنی بیٹی سے قرض کی ادائیگی کے لئے ایسا کرنے کو کہے تو اس کی بیٹی کیا کرے؟
اور اگر اس کی بیٹی ایسا کرنے لگے تو کیا کرے؟
میں نے بڑی امید سے پوچھا۔ مجھے امید ہے کہ آپ اسلام کی روشنی میں اس کا حل ضرور بتائیں گے۔
قرض اتارنے یا اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے خودشی یا زنا کرنا اور کروانا دونوں ناجائز ،حرام اور کبیرہ گناہ ہیں ،مقروض خاتون کو چاہئیے کہ کسی زکوۃ دینے والے ادارے یا فرد سے رابطہ کرے اور قرض وغیرہ کی تفصیل بتاکر ان سے معاونت کی کوشش کرے یا قرض خواہ سے اپنا قرضہ معاف کروانے کی کوشش کرے ،اسی طرح اگر مذکور خاتون کا نان نفقہ اٹھانے والا کوئی نہ ہو تو وہ اپنے گھر میں یا کسی اور جگہ ملازمت وغیرہ کرکے بھی قرض اتارنے کی ترتیب بناسکتی ہے -