السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا مودبانہ دو استفتاء ہیں۔
۱۔ میرا ایک دوست نے کہا کہ غیر عربی نام رکھنا جائز نہیں، کیا اس کا کہنا درست ہیں ؟
۲۔ دار العلوم کے ایک فتوی میں یہ بتایا گیا کہ انبیاء کرام، صحابہ اور اولیاء کے نام کے بے غیر اور کسی نام رکھنا اچھا نہیں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ اولیاء کرام تو ولادت کے وقت اولیاء نہیں تھے۔ تو ان کے نام رکھنا کیسے پسندیدہ ہوا؟
واضح ہو کہ ہر وہ نام جو معنی کے اعتبار سے درست ہو تو اس کے ذریعے کسی بچے کا نام رکھنا شرعا بھی درست ہے، چاہے وہ عربی نام ہو یا غیر عربی، لہذا سائل کے دوست کا یہ کہنا کہ غیر عربی نام رکھنا جائز نہیں، درست نہیں ہے۔ البتہ انبیاء کرام علیهم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کر نا زیادہ بہتر اور باعث برکت ہے۔
ففي سنن أبي داود: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» (4/ 287) واللہ اعلم بالصواب