گناہ و ناجائز

فیک نام کے ذریعہ کام کرنا

فتوی نمبر :
64485
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فیک نام کے ذریعہ کام کرنا

میں ایک کمپنی میں جاب کر رہا ہوں، وہاں لوگ آن لائن پلیٹ فارم پر کام کر رہے ہیں فیک نام سے , اور گرافک ڈیزائنگ اپنی میشن اس طرح کے کام ہم لیتے اور کرتے ، کام ہم ٹائم پر دیتے اور کوئی غلط کام نہیں کرتے ہیں ، کیا مجھے جو سیلری مل رہی ہے وہ حرام ہے یا حلال ؟اس پر میری راہ نمائی کر دیں۔
وضاحت: اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاکستان میں سوفٹ وئیر بنانے والوں کی باہر دنیا میں اتنی ویلیو نہیں ہے اور لوگ ان پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے ، اس لئے اکثر لوگ پاکستان میں باہر ممالک کی آئی ڈی بناتے ہیں ، یعنی اپنا نام اور اس کی تفصیل وغیرہ اس طرح شو کرتے ہیں کہ عام لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کام کرنے والی یہ کمپنی پاکستانی نہیں ،بلکہ غیر ملکی ہے ، باقی کام وغیرہ سب ہم کسٹمر کے مطالبہ کے مطابق کرتے ہیں اور کام کے بعد ہی وہ ہمیں پیمنٹ کر دیتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق مذکور کمپنی کا باہر ممالک کی آئی ڈی بنانا اور اپنا نام وغیرہ اس طرح شو کرنا جس سے بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہو کہ یہ غیر ملکی کمپنی ہے ، دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، تاہم سائل جس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہو اس میں اگر غیر شرعی امور شامل نہ ہوں تو اس کیلئے اس کمپنی میں کام کر ناشر عاً جائز ہے اور اس کی کمائی حلال ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح مسلم: عن أبى هريرة أن رسول الله الله قال من حمل علينا السلاح ليس منا ومن غشنا فليس منا - اھ (۱/70)-
وفي الفتاوى الهندية: وان استأجره ليكتب له غناء بالفارسية أو بالعربية فالمختار أنه يحل لأن المعصية في القراءة - اھ (۴/45) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64485کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات