گناہ و ناجائز

واجب الادا قرض کے ہوتے ہوئے عمرے پر جانا

فتوی نمبر :
64709
| تاریخ :
2023-05-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

واجب الادا قرض کے ہوتے ہوئے عمرے پر جانا

السلام علیکم
میرے پاس کچھ رقم موجود ہے جس سے میں اپنے والدین کو عمرہ کروانا چاہتا تھا ,لیکن میرے والد پر کچھ قرض ہے جو آئندہ ماہ ادا کرنا لازم ہے۔
اب وو رقم والد کے قرض اتارنے میں خرچ کروں یا عمرہ کے لئے ؟ شرعی احکام کیا ہیں؟
جزاک اللہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عمرہ کی ادائیگی سنت ہے ، جبکہ قرض ادا کرنا لازم ہے ، لہذا سائل کے والد کے پاس اگر قرض ادا کرنے کی کوئی صورت نہ ہو, تو سائل کو چاہیئے کہ پہلے والد کا قرضہ اتارنے کا اہتمام کرے پھر اگر فوراً یا کچھ عرصہ بعد عمرہ پر جانے کا انتظام ہوسکے تو اس کی کوشش کرے -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64709کی تصدیق کریں
0     509
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات