میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں گرافک ڈیزائن سیکھ رہا ہوں، اور اس کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز، جیسے ایڈوب فوٹوشاپ اور السٹریٹر، دونوں پیڈ (Paid) سافٹ ویئر ہیں۔لیکن ایڈوب پاکستان سے ادائیگی (Payment) کی سہولت فراہم نہیں کرتا، اس لیے ہم انہیں خرید نہیں سکتے۔ایسی صورت میں کیا ہمارے لیے ان سافٹ ویئرز کا کریک (Cracked) ورژن استعمال کرنا جائز ہے؟ اور اگر ہم انہیں استعمال کرکے کمائی کریں تو کیا وہ کمائی جائز (حلال) ہوگی؟
واضح ہو کہ ایسا سافٹ وئیر جس کے قانونی طور پر کاپی رائٹ کے حقوق محفوظ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس سافٹ وئیر کو کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ قیمت ادا کیے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو ، تو ایسے سافٹ وئیر زیر استعمال کرنا دھو کہ دہی پر مبنی عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر کمپنی کی طرف سے مذکور سافٹ وئیر زکا کر یک ورژن بنانے کی صراحتا یا دلالۃًکوئی ممانعت نہ ہو اور اس کو قانونا جرم نہ قرار دیا گیا ہو، جس کی وجہ سے کوئی شخص یہ عمل کر کے اس کو کسی جائز کام میں استعمال کر رہا ہو تو اس کے اس عمل اور کمائی کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔ (ماخوذ از تبویب)
كما قال الله تعالى في القرآن: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ } [النساء: 29]
و في أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان أحدهما ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم وقال ابن عباس والحسن أن يأكله بغير عوض (الى قوله ) وقول النبي صلى الله عليه وسلم "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه ." (3/ 127)
و في الفتاوى الهندية: قال رضي الله عنه لما سألته أن ما يشترى من السوق ويعلم قطعا أنهم يبايعون الأتراك ومن غالب مالهم الحرام ويجري بينهم الربا والعقود الفاسدة كيف يكون فهو على ثلاثة أوجه فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي والثاني إن علم أن المال الحرام بعينه قائم إلا أنه اختلط بالغير بحيث لا يمكن التمييز عنه فإن على أصل أبي حنيفة رحمه الله تعالى بالخلط يدخل في ملكه إلا أنه لا ينبغي أن يشتري منه حتى يرضى الخصم بدفع العوض فإن اشتراه يدخل في ملكه مع الكراهة اھ (5/ 364)
و في شرح مجلة الأحكام: كل يتصرف في ملكه كيف شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال اھ (۳/۲۰۱)