استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص (زید) نے دوسرے شخص (عمر) کیلئے بجلی کا میٹر لگادیا ہے ۔ اب (عمر) کو یہ شبہ ہے کہ (زید) کی مال میں سود کی رقم شامل ہیں اس وجہ سے عمر نے صدقہ دیدیا تاکہ اگر میٹر لگانے میں سود کی پیسے شامل ہوں تو یہ اس کی بدلہ میں ہوجائے گا ۔ تو ایسا کرنا (عمر ) کیلئے ازروئے شریعت کیسا ہے۔؟
صورتِ مسئولہ میں اگر عمر کو یقین یا غالب گمان ہو کہ زید کی غالب اور اکثر آمدنی حرام ہے ،یا انہوں نے مذکو رمیٹر سودی رقم یا حرام مال سے لگوا کر دیا ہے، تو ایسی صورت میں عمر کے لئے میٹر پر لگائے گئے اخراجات کے بقدر رقم بغیر نیتِ ثواب صدقہ کرنے کے بعد اس میٹر کو اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ شرعاً جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ (البقرة172)۔
وفي سنن الترمذي: عن أبي الحوراء السعدي، قال: قلت للحسن بن علي: ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: «دع ما يريبك إلى ما لا يريبك، فإن الصدق طمأنينة، وإن الكذب ريبة»(4/ 668)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله لا يكفر) اقتصر على نفي الكفر؛ (إلی قوله) سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان وجمع المال من أخذ الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي أن لا يأكل منه (إلی قوله) أي إن لم يكن عين الغصب أو الرشوة؛ لأنه لم يملكه فهو نفس الحرام فلا يحل له ولا لغيره. (2/ 292) ۔
وفي الفتاوى البزازية: ما يأخذه الاعونة من الأموال ظلماً ويخلطه بماله (إلی قوله) نعم لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل في الصحيح من المذهب اھ(1/ 39)۔
وفي الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال اھ (5/ 342)۔
وفي فقه البیوع: وظاھر أن ما یطیب بعد الضمان ھذا الانتفاع والربح الذی حصل قبل الضمان، أما أصل المشتری فیحل الانتفاع بعد الضمان اجماعاً، وکذا ربحه الذی حصل بعد اداء الضمان (إلی قوله) وانما اختلافھم فی أنه إذا أدی الغاصب الضمان فھل ینقلب الربح السابق الذی حصل علیه أداء الضمان جائز؟ فمقتضی ظاھر الروایة أنه لا ینقلب فی الصورتین (إلی قوله) وذکر کثیر من المتأخرین أن الفتویٰ الآن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اھ (۲/ ۱۰۱۵)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1