اگر کسی بندے سے کوئی سرکاری ادارے کے آ فیسر وغیرہ جائز کام کرنے کے بدلے میں رشوت طلب کرتا ہو ، اور وہ بندہ اپنا کام کسی اور سرکاری آ فیسر جو اس ادارے کا نہ ہو ، بلکہ کسی اور ادارے کا ہو وہ سفارش لگواکے کام کروالے ، اور اس کام کے بدلے میں ہم اسے کچھ رقم ادا کریں ،یہ کام کروانے والا بندہ ہم سے بولے کہ میں آپ کو کام کرواکے دیتا ہوں ، پھر اسکے بدلے میں آپ مجھے کمیشن کے طور پیسے دیدینا،تو کیا اس قسم کی لین دین ،کمیشن حرام کے زمرے میں آتی ہے؟
واضح ہو کہ سرکاری ملازم کیلئے مفوضہ امور میں سے کسی کام کے کرنے پرکسٹمر سے پیسے لینا شرعاً رشوت ہونے کی وجہ سے درست نہیں جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر رشوت دیے بغیر اپنا جائز کام بھی نہ نکل سکتا ہو ، اور اس کے بغیر سائل کو شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑے ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں رشوت دینے کی گنجائش ہے، البتہ لینے والا ہر حال میں گناہ گار ہوگا،تاہم اگر سائل براہِ راست سرکاری ملازم سے مطلوبہ کام نہ نکالے بلکہ کسی تیسرے بندہ کو رقم بطورِ کمیشن (اجرت) دیکر اس کے ساتھ معاہدہ کرے ، تو یہ بھی جائز ہے۔
کما فی ردالمحتار: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل اھ(6/47)
وفیہ ایضاً: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي۔سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ(6/63)۔