محترم جناب مفتی صاحب! مذکور ویب سائٹ میں میں نے پڑھا کہ حضورﷺ کے روضۂ اقدس کی زیارت صحیح نہیں ہے، کیا یہ درست ہے؟ اسی سائٹ میں ہے کہ قرآن وحدیث میں کہیں حجرِ اسود کو بوسہ دینے کا حکم نہیں، اس بارے میں بھی براہِ کرم آپ وضاحت فرمائیں ،اس ویب سائٹ کے اندر ایسی ایسی باتیں ہیں جو نہ ہم نے درسگاہوں میں پڑھی ہیں،اور نہ والدین سے سنی ہیں، براہِ کرام آپ اس سائٹ کا مطالعہ کر کے حقائق سے ہمیں آگاہ کردیں۔
مذکورہ باتیں تحقیق کی روشنی میں قطعاً غلط ہیں، جنہیں اختیار کرنے یا حقیقت پر محمول کرنے اور ایسی سائٹ کے دیکھنے سے احتراز لازم ہے۔