کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اور مفتیانِِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمر سے اسکے مکان کا سودا مبلغ بائیس لاکھ (2200,000)روپے میں طے کیا اور بیعانہ (ٹوکن) کی مد میں مبلغ پانچ لاکھ(500,000) روپے ادا کیے ، اور بقایا رقم ادا کرنے کا وعدہ اگلے تین (٣) سال میں طے ہوا،اب چند نا گزیر وجوہات اور مجبوریوں کی وجہ سے زید بقایا رقم ادا کرنے سے قاصر ہے اور مندرجہ بالا معاملہ کو ختم کرنا چاہتا ہے ، اور اپنی بیعانہ کی رقم کا عمر سے متقاضی ہے ،عمر اب زید کو بیعانہ (ٹوکن) کی رقم واپس کرنے سے انکاری ہے،آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں کہ اس بیعانہ (ٹوکن) کا حقدار کون ہے، اور عمر کیلئے ان پیسوں کا رکھنا یا استعمال کرنا کیسا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر زید اور عمر کے درمیان مبلغ بائیس لاکھ روپے میں باقاعدہ ایجاب و قبول کے ذریعے مکان کی خریداری کا معاملہ طے ہو گیا تھا ،اورزید نے طے شدہ قیمت میں سے مبلغ پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کر لی تو شرعاً یہ بیع منعقد ہو گئی ہے ، اب زید اور عمر میں سے ہر ایک کے لئے دوسرے کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر اس معاملے کو ختم کرنے کا اختیار نہیں،بلکہ زید کے ذمہ بقیہ رقم کی ادئیگی اورعمر کے ذمہ اسے مکان کی حوالگی لازم اور ضروری ہے،البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے اس معاملے کو ختم کرنے پر آمادہ ہوں تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے،لیکن اس صورت میں عمر کے لئے پانچ لاکھ روپے ضبط کرنا جائز نہ ہو گا، بلکہ وہ رقم زید کو واپس کرنالازم اور ضرری ہو گا۔
کما فی الہدایۃ :(الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول) لقوله عليه الصلاة و السلام : "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" و لأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما "فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل و يرد مثل الثمن الأول) اھ(3/55)-
و فی العنایۃ : (البيع ينعقد بالإيجاب و القبول) الانعقاد هاهنا تعلق كلام أحد العاقدين بالآخر شرعا على وجه يظهر أثره في المحل اھ(6/248)-
و فی الفقہ البیوع : الإقالة في اللغة بمعنى الرفع و الإزالة ، و في الفقه : رفع العقد و إلغاء حكمه بتراضي الطرفين بأن يرد البائع المبيع ، و يرد المشترى الثمن ، و الأصل في جواز ذلك و استحبابه إذا طلب أحد المتعاقدين ذلك ما روى عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه : أن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - قال: "مَن أقال مسلما ، أقاله الله عثرته " (الی قولہ)و الإقالة تنعقد بالإيجاب و القبول ، و لو كان القبول اقتضاء ، فلو طلب البائع الإقالة ، فقال المشترى هاتِ الثّمن ، فهو إقالة . و كذلك تنعقد بالتعاطى عند من يقول بجوازه في البيع و لوكان من جانب واحد ، و هو الصحيح من مذهب الحنفية ، كمافصلناه في مبحث التعاطى و جاء في الفتاوى البزازية قبض الطعام المشترى ، و سلّم بعض الثمن ، ثم قال بعد أيام : إن الثمن غال فرد البائع بعض الثمن المقبوض فمن قال : البيع ينعقد بالتعاطى من أحد الجانبين جعله إقالة ، و هو الصحيح ، و من شرط القبض من الجانبين . لا يكون إقالة اھ(2/505)-