گناہ و ناجائز

"تین پتی"آن لائن گیم کھیلنے اور اس کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم

فتوی نمبر :
66876
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

"تین پتی"آن لائن گیم کھیلنے اور اس کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!"تین پتی" نامی ایک آن لائن ارننگ گیم ہے ، یہ گیم بغیر پیسوں کے نہیں چلتی جب تک کہ اس میں بیس یا سو روپے یا اس سے بھی زیادہ رقم نہ ڈالی جائے ، تب یہ گیم کھیل سکتے ہیں اور اس سے پیسے کما بھی سکتے ہیں اور اس میں پیسے ضائع بھی ہوتے ہیں ، کیا یہ گیم کھیلنا جائز ہے یا ناجائز ؟ رہنمائی فرمائیں! جزاک اللّہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور گیم میں پیسہ لگانے پر ضائع ہونے کا بھی خطرہ موجود ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیسے ضائع نہ ہوں ، بلکہ جیتنے پر مزید پیسے مل جائیں تو چونکہ یہ صورت قمار (جوے) کی ہے ، اس لئے شرعاً مذکور گیم کھیلنا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔
لیکن اگر بغیر پیسوں کی شرط کے ساتھ بھی کھیلا جائے تو چونکہ اس میں بہت زیادہ انہماک کی وجہ سے نماز اور دیگر عبادات میں خلل واقع ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے اور اس میں ضیاعِ وقت بھی پایا جاتا ہے جو کہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے ، اس لئے مذکور گیم کھیلنے سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔الآیة [المائدة:90]۔
و في أحكام القرآن للجصاص : قال الله تعالىٰ : يسئلونك عن الخمر و الميسر قل فيهما إثم كبير) (و فیه) و لا خلاف بین أهل العلم في تحريم القمار و أن المخاطرة من القمار قال إبن عباسؓ أن المخاطرة قمار ۔اھ (1/329)۔
و فی تکملة فتح الملهم : فالضابط في هذا الباب (إلی قوله) أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته ، و ليس له غرض صحيح مفيد في المعاش و لا المعاد حرام أو مكروه تحريماً ، (إلی قوله) و ما كان فيه غرض و مصلحة دينية أو دنيوية ، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة (کما فی النرد شیر)كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ، (إلی قوله) و أما مالم يرد فيه النهي عن الشارع و فيه فائدة و مصلحة للناس ، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه و مفاسده أغلب علي منافعه ، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده و عن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً ، و الثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي و التلاعب فهو مكروه۔اھ (4/435)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66876کی تصدیق کریں
0     9983
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات