السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم باعثِ ادب مرحومین کی تصاویر کو سلام کرسکتے ہیں؟ میرا ایک بیٹاہے تین سال کا , اسے اس کے والد یعنی میرے شوہر اپنی طرف سے شاید آداب وتمیز سکھانے کی غرض سے اپنے مرحوم والد اور بہن کی تصاویر کو سلام کرواتے ہیں۔ مجھے یہ بدعت لگتی ہے اور ڈر ہے کہ اس کے عقائد خراب نہ ہوجائیں۔
آپ کی کیا راہے؟ میں نے سمجھانے کی کوشش کی انہیں ,لیکن وہ اس بات کی یوں وضاحت دیتے ہیں کہ قبرستان میں تو ہم "السلام علیکم یا اہل القبور "کہتے ہیں ,جس بات سے میں متفق نہیں ہوں؟
کسی بھی جاندار کی پرنٹ شدہ تصاویر گھر میں لگانا اور رکھنا شرعاً جائز نہیں اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں آتاہے کہ جس گھر میں جاندار کی تصاویر موجود ہوں تو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، اسی طرح علماء محدثین نے یہ بھی لکھاہے کہ عرب میں بت پرستی کا آغاز بھی اس طرح ہوا تھا کہ ابتداءً لوگوں نے اپنے خاندان اور بزرگوں کی تصاویر بناکر اس کی تعظیم کرنے لگے، اور رفتہ رفتہ یہ تعظیم ان کے پوجا کرنے میں تبدیل ہوگئی , اس لئے سائلہ کے شوہر کا بچوں کی تربیت کی خاطر، اپنے مرحومین کی تصاویر گھر میں لگانا فعلِ حرام کا مرتکب ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی بچوں کی تربیت کیلئے تصاویر کا سہارا لینا شرعاً یا عرفاً کوئی لازم اور ضروری ہے بلکہ بچوں کو خاندان کے دیگر بڑوں کے ساتھ ملتے وقت ملاقات کے تہذیب اور آداب بتاکر بھی ان کی تربیت کی جاسکتی ہے، جبکہ سائلہ کے شوہر کا قبرستان میں مردوں کو سلام کرنے کو بنیاد پر تصاویر محرمہ کی تعظیم پر استدلال کرنا شریعت سے ناواقفیت پر مبنی عمل ہے۔ لہٰذا اسے بچوں کی تربیت کے نام پر اس ممنوع اور ناجائز عمل کے ارتکاب سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تفسیر روح المعانی: قال العلامة الآلوسی رحمه اللہ تحت قوله تعالٰی ﴿وقالوا لا تذرنّ اٰلهتکم ولا تذرنّ ودّا وّلا سواعًا ولا یغوث ویعوق ونسرًا﴾ وأخرج أبو الشیخ فی العظة عن محمد بن کعب القرضی أنه قال کان لآدم علیه السلام خمسة بنین ودّ وسواع فکانوا عبادا، فمات رجل منهم فحزنوا علیه حزنًا شدیدًا فجاءهم الشیطان فقال حزنتم علی صاحبکم هذا ؟ قالوا نعم، قال هل لکم أن أصور لکم مثله فی قبلتکم إذا نظرتم إلیه ذکر تموه، قالا و انکره أن تجعل لنا فی قبلتنا شیئًا (نصلی علیه قال فأجعله فی مؤخر المسجد قالوا، نعم فصوره لهم حتی مات خمستهم فصور صورهم فی مؤخر المسجد، فنقصت الأشیاء حتی ترکوا عبادة اللہ وعبدوا هؤلاء الخ. (۱۰/ ۸۶ ط دار الکتب العالمیه)
وفی مشکٰوة المصابیح: عن عائشة رضی اللہ عنها أنها اشترت نمرقة فیها تصاویر، فلما راٰها رسول اللہﷺ قام علی الباب فلم یدخل فعرفت فی وجه الکراهیة، قالت فقلت یا رسول اللہ اتوب إلی اللہ وإلی رسوله ماذا أذنبت ؟ فقال رسول اللہﷺ مابال هذه النمرقة، قلت اشتریتها لنقعد علیها وتوسدّها فقال رسول اللہﷺ إن أصحاب هذه الصور یعذّبون یوم القیامة، یقال لهم أحیوا ما خلقتم، وقال إن البیت الذی فیه الصورة لا تدخل الملائکة. متفق علیه (۲/ ۶۳۳) کتاب الباس باب التصاوری ط بشری)-