السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک مسئلہ پوچھنا ہے ہمارے محلہ کی مسجد ہے، اس میں پانی کی لائن لگی ہوئی ہے ، جس میں پانی ہر تین دن کے بعد 40 گھنٹے کے لیے لگاتار آتا ہے، اور الحمدللہ مسجد کا ٹینک جو پانی کا ٹینک ہے وہ تقریبا 20 سے 24 گھنٹے کے دوران مکمل بھر جاتا ہے، اوپر والی ٹینکی بھی بھر دی جاتی ہے اور الحمدللہ ایک مرتبہ ٹینک مکمل بھر جائے، تو پھر دو ہفتے تک بھی پانی کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن پھر بھی تین دن کے بعد پانی اپنی ترتیب کے مطابق آجاتا ہے، سوال میرا یہ ہے کہ اب بھی مسجد کی لائن میں پانی چل رہا ہے تقریبا 12 گھنٹےمسلسل اور چلتا رہے گا، تو کیا میں اس لائن کو اپنے ذاتی موٹر لگا کر اپنے گھر کا ٹینک اس سے بھر سکتا ہوں ، اس کو استعمال میں لا سکتا ہوں ؟اور ہمارے محلے میں پانی کی بڑی تنگی ہے ، مسجد کے لیے لائن اسپیشل لی گئی ہے کہیں اور سے، محلہ میں پانی کی بڑی تنگی ہے، تو کیا مسجد کی ضرورت سے زائد جب پانی لائن میں آرہا ہے، تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے ؟ اور اگر جائز نہیں تو اس کا بدل کیا ہوگا؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر مسجد کی دونوں ٹینکیاں بھر جانے کے بعد بھی پانی آتا ہو ، اور بند نہ کرنے یا کسی اور کو نہ دینے کی صورت میں پانی واقعۃً ضائع ہوتا ہو ,تو ایسی صورت میں پانی کے ضیاع سے بچنے کیلئے مسجد کمیٹی سے اجازت لینے کے بعد زائد پانی کو اپناذاتی موٹر وغیرہ لگاکر اگر استعمال کیا جائے ، تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ،البتہ اس صورت میں بھی مسجد کا پانی بالکل مفت استعمال کرنے کی اجازت نہیں ،بلکہ مسجد کمیٹی کی باہمی رضامندی سے کچھ نہ کچھ معاوضہ طے کر لیا جائے ،اور وہ رقم مسجد کے اجتماعی فنڈ میں جمع کی جائے ۔
کما فی المنیة: شرب الماء من السقاية جائز للغني والفقير، كذا في الخلاصة.ويكره رفع الجرة من السقاية وحملها إلى منزله؛ لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات اھ(341/5) واللہ اعلم