گناہ و ناجائز

دوران ملازمت ذاتی کام کرنا

فتوی نمبر :
67030
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دوران ملازمت ذاتی کام کرنا

کیا میں جاب پر رہتے ہوئے اپنا خودکا کاروبار کر سکتا ہوں ، اور میرےباس کو میرا ان کی طرح ان جیسا کاروبار کرنا پسند نہیں اور پھر بھی میں کروں ، تو کیا یہ حرام ہوگا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کیلئے ملازمت کے مقررہ اوقات میں مالک کی اجازت کے بغیر مفوضہ امور ترک کرکے اپنے کاروبار میں لگنا اور مفوضہ امور میں کوتاہی کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ خیانت اور گناہ ہے ، جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے،اوراتنے وقت کی تنخواہ لینا بھی سائل کیلئے شرعاً جائز نہیں ،البتہ ملازمت کےمقررہ اوقات کے علاوہ اوقات میں اگر سائل اپنا کاروبار کرے، تو یہ شرعاً بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی ردالمحتار: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى اھ (70/6)
وفی الموسوعۃة الفقہیة: ويجب على الأجير الخاص أن يقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف عليه. ولا يمنع هذا من أدائه المفروض عليه من صلاة وصوم، بدون إذن المستأجر. وقيل: إن له أن يؤدي السنة أيضا، وأنه لا يمنع من صلاة الجمعة والعيدين، دون أن ينقص المستأجر من أجره شيئا إن كان المسجد قريبا اھ(289/2)
وفیھا ایضاً: وليس للأجير الخاص أن يعمل لغير مستأجره إلا بإذنه، وإلا نقص من أجره بقدر ما عمل. ولو عمل لغيره مجانا أسقط رب العمل من أجره بقدر قيمة ما عمل اھ(290/1) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67030کی تصدیق کریں
0     707
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات