السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب زید کو ہائی بلڈ پریشر شوگر جیسی بیماریاں ہیں، مستند ڈاکٹرز نے اس طرح کے کھانے پینے سے سختی سے روکا ہوا ہے، جو ان بیماریوں کی روک تھام کے لئے بہتر ہیں، لیکن زید پرہیز نا ہونے کے برابر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ، کیا زید اگر جان بوجھ کر اس طرح کی خوراک کھائے جو نقصان کا سبب بنے، تو کیا زید گناہگار ہوگا؟ اور کیا انسانی جسم کا انسان پر حق ہے کہ، اس کو وہ خوراک نہ دی جائے، جو اس کے لئے نقصان دہ ہو اور اس کے متعلق گناہ ہوگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ صحت اللہ رب العزت کی ایک امانت ہے، اور اس کا خیال رکھنا ہرانسان کے ذمہ لازم ہے، اس لیےشریعت مطہرہ میں مضرصحت اشیاء استعمال کرنے سے منع کیا گیاہے، اور بیماری کی صورت میں علاج کی بھی ترغیب دی گئی ہے،اورجس طرح عام صحت مند لوگوں کے لیے اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے، اسی کی طرح مریضوں کے لیے بھی اپنی صحت کا خیال رکھنا ، اور بیماری کی روک تام اور علاج معالجہ کے سلسلہ میں مستند ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات ،اور غذائی اشیاء کا استعمال ،اور جن چیزوں سے انہوں نے منع کیا ہے، ان سے اجتناب اور پرہیز ضروری ہے، اور جان بوجھ کر اس میں کوتاہی کرنا، اللہ رب العزت کی اس عطاکردی نعمت کی ناقدری اور خیال نہ رکھنے کی وجہ سے ممنوع اور قابل محاسبہ فعل ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔
کما فی سنن أبی داؤد: نھی النبی ﷺ عن کل مسکر و مفتر ‘‘ اھ(کتاب الأشربۃ، باب النہی عن المسکر، حدیث نمبر :۳۶۸۶)۔
وفی المجم الکبیر: ’’ان اللہ عزوجل لم ینزل داء الا لہ دواء الا الموت‘‘ اھ ( حدیث نمبر :۸۹۶۹)