گناہ و ناجائز

بیوی کو گھر کی اوپری منزل میں الگ سے رہائش دینے کے باجود اس کا علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنا کیساہے؟

فتوی نمبر :
67474
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیوی کو گھر کی اوپری منزل میں الگ سے رہائش دینے کے باجود اس کا علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنا کیساہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میرے شادی کو 1 سال ہوگئے ، مجھے اللہ تعالیٰ نے شب قدر والے دن ایک بیٹے سے نوازا اور اس کے دوسرے دن ( 27 رمضان المبارک) میں سسر نے اپنی بیٹی اور میرے 3 چھوٹی سالیوں نے اپنی بڑی بہن کو مجھ سے جدا کردیا اور وہ اپنی مرضی سے چلی گئی ، وجہ میں نے اسے نان نفقہ دینا بند کردیا اور بچہ کا بھی اور کہا کہ جب وہ واپس آئیگی تب جتنا نفقہ ادا کرنا پڑے کروں گا صرف بچے کا ، کیوں کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے اس لئے میری اہلیہ خود والدین کے گھر پر لیڈیز کا کام کرکے پیسے کماکے دیکھ بال کر رہی ہے بیٹے کی ، اس کے 40 دن گزرنے کے بعد میں نے اپنی اہلیہ کے گھر جاکر اپنی اہلیہ سے براہِ راست ملاقات کی اور بات کی۔ اس کی ڈیمانڈ ہے کہ میں اسے کرایہ کا گھر لیکر دوں جبکہ استطاعت نہ ہونے کے باوجود اپنے گھر پر پہلی منزل پر رہائش کرنے کو اسے منا بھی لیا تھا اور میں نے اپنی اہلیہ کو سمجھایا ہے کہ ( اپنے گھر میں پہلی منزل پر الگ کمرہ ، واشروم اٹیچ باتھ روم اور کچن دینے کو تیار ہوں ) اور میرا حق یہاں تک ہے یعنی الگ گھر کا مطالبہ ناجائز ہے تو اس بات میں میری اہلیہ نے کہا کہ فتویٰ دکھا دیں پھر فیصلہ کروں گی۔ جب عصر کی نماز کے بعد فتویٰ لیکر گیا تو اس کے والد یعنی میرا سسر نے مجھ سے بد کلامی کی کہا کہ فتویٰ اپنے اندر رکھ اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے اور کہا کہ آج میرے غیر موجودگی میں ہمارے گھر پر آئے ہو، آئندہ ہمارے گھر پر نہیں آنا ،جبکہ میرا بچہ مجھے دیکھنا نصیب نہیں ہو رہا ، اب سسر کا کہنا ہے کہ الگ گھر میں جب رکھ سکے گا اور اچھی طرح سے کمائے گا اور اچھا ہوجائےگا (یعنی ان کا رویہ ہے کہ میں سسر کو عزت نہیں دے رہا ، بدتمیزی پہ اتر آیا ہوں ) جبکہ اللہ گواہ ہے آج تک میں نے کسی سے بھی بدتمیزی سے پیش نہیں آیا اور نہ آئندہ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں نے اپنے چچا کو اور اپنے والد کے بڑے بھائی کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوششیں کیں میرا سسر کا یہ کہنا کہ دھمکی آمیز پیغام کہ ہمیں خلع پیپر بھی نہیں چاہیے اور لڑکی بھی اس گھر میں نہیں دینی ، اگر لڑکے کو برداشت کرنے کی تحمل نہیں ہے تو لڑکا خود آکے 2 گواہوں کے ساتھ طلاق دے دیں ( حق مہر بھی ملے ، بچے کا خرچہ بھی ملے ) اب تک ساڑھے 4 مہینے گزر گئے اپنے گھر گئے ہوئے اور میرے لیے اس گھر پر جانے پر پابندی عائد کرنا یہ کیسے انصاف کی بات ہے ؟
میں نے اپنے بڑوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے کوششیں کیں اور کرتا رہا اب بھی جاری ہے ، میرا سسر اپنی بیٹی کو واپس بھیج دیں تو پھر ٹھیک ہے ۔ بالفرض اگر میرا سسر بیٹی کو میرے پاس بھیجنا نہیں چاہتا ہے تو میرا مطالبہ میرا حق مہر مجھے واپس کردیں کیونکہ جب وہ خود زندگی بسر کرنا نہیں چاہتی اور پاس نہیں آنا چاہتی میرا یہ مطالبہ کرنا جائز ہوگا؟ اور میں نے اپنی اہلیہ کو 50 ہزار روپے دیے تھے جو میں نے اپنے لیے بیڈ روم وغیرہ کے لیے دیے تھے کہ زندگی میں ساتھ نبھائیگی ، اگر وہ میرے ساتھ زندگی کرنے کو تیار نہیں یا والدین روکے تو اس صورت میں مہر کا واپسی لینا جائز ہوگا ؟ کیا کرنا چاہیے رہنمائی فرمائیں!عین نوازش ہوگی!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب سائل اپنی بیوی کو مستقل الگ پہلی منزل میں رہائش دینے کیلئے تیار ہو، جس میں وہ اپنے بچے کے ساتھ آزادی سے زندگی بسر کرسکتی ہو ، تو اس سے بیوی کا شرعی حق پورا ہوجاتاہے، اس کے باوجود اس کا یا اس کے والدین کا سائل سے الگ سے کرایہ کے گھر کا مطالبہ کرنا قطعا غلط اور غیرشرعی مطالبہ ہے،اورسائل کی بیوی اس دوران اپنے والد اور بہنوں کے ساتھ اگر خود سے گھر چلی گئی تواس کی وجہ سے یہ ناشزہ شمار ہوگی، لہذا ایسی صورت میں سائل پر اپنی بیوی کا نان ونفقہ بھی شرعاً لازم نہ ہوگا۔
جبکہ سائل کی طرف سے تمام کوششوں کے باوجود اس کے سسر کا اپنی بیٹی کو بلاوجہ اپنے گھر روکے رکھنا ، اُسے شوہر کے گھر جانے نہ دینا ، اور اپنے داماد سے بیٹی کے طلاق کا مطالبہ کرکے بیٹی کا گھر برباد کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ عمل ہے، بلکہ شرعاً بھی انتہائی درجہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ لہذا اسے چاہیئے کہ وہ اس کو اپنے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے بیٹی کے گھر کو آباد رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے ، اور میاں بیوی کو بھی چاہیئے کہ اس معاملہ میں کسی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے قبل سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی کوشش کریں، تاہم اگر سائل کے اس معاملات کو حل کرنے اور رشتہ برقرار رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی وہ اس رشتہ کو برقرار رکھنے کیلئے آمادہ نہ ہو، اور نباہ کی کوئی صورت نہ بنتی ہو، تو سائل کو کے لئےجائز ہوگاکہ وہ مہر کے عوض کو خلع دیدے اور اد اکردہ مہر اس سے واپس لے لیں جبکہ ایسی صورت میں خلع کے ذریعہ جدائی اور عدت گزرنے کے بعد سائل پر بیوی کونان نفقہ کے اخراجات دینا بھی شرعاً لازم نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر الخ
وفی الشامیة: (قوله زاد في الاختيار والعيني) ومثله في الزيلعي، وأقره في الفتح بعدما نقل عن القاضي الإمام أنه إذا كان له غلق يخصه وكان الخلاء مشتركا ليس لها أن تطالبه بمسكن آخر (قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا الخ ( مطلب فی مسکنة الزوجة، باب النفقة، ج: 3، ص: 600، ط: سعید)۔
وفی الھندیة: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم الخ (‌‌الباب السابع عشر في النفقات وفيه ستة فصول ، ج: 1، ص: 545، ط: ماجدیة)۔
وفیھا أیضاً: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان الخ ( الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، ج: 1، ص: 488، ط: ماجدیة)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67474کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات