گناہ و ناجائز

کم عمر بچیوں کی تصاویر کے زریعہ اشتہار لگانا

فتوی نمبر :
67485
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کم عمر بچیوں کی تصاویر کے زریعہ اشتہار لگانا

میرا آن لائن بالوں کے لوازمات (ہیئر ایکسیسریز) کا کاروبار ہے۔ کیا میں اپنی مصنوعات کے ماڈل کے طور پر کم عمر بچوں، خاص طور پر سات سال سے کم عمر بچیوں کو استعمال کر سکتی/سکتا ہوں؟ اشتہار چلانے کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم حقیقی بچیوں کو اپنی ایکسیسریز پہنے ہوئے اشتہار میں دکھائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ زمانہ کے حالات، سوشل میڈیا کے بے قابو استعمال، اور تصاویر و ویڈیوز کے غلط استعمال کے شدید امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے کم عمر بچیوں کو اشتہارات میں بطورِ ماڈل پیش کرنے کے طرزِ عمل میں متعدد قباحتیں اور سنگین خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چنددرج ذیل ہیں :
اولاً: معصوم بچیوں کی تصاویر کو عام پلیٹ فارمز پر نشر کرنا ان کی عزت و وقار اور آئندہ زندگی کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتاہے، کیونکہ ان تصاویر کو کاپی، ایڈٹ اور ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرنا آج کے دور میں نہایت آسان ہے، جو ایک مستقل فتنہ کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
ثانیاً: اشتہاری دنیا میں عموماً کشش اور توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے انداز اختیار کیے جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ حیا اور پاکیزگی کے خلاف جاتے ہیں، اس طرح کم عمری میں ہی بچیوں کو نمائش اور جاذبیت کے کلچر کی طرف مائل کرنا اخلاقی طور پر مضر اور شرعاً ناپسندیدہ ہے۔
ثالثاً: اس عمل میں بچیوں کو غیر ضروری طور پر عوامی نمائش کا حصہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا مزاج نمائش اور تشہیر کے بجائے پردہ، حیا اور تحفظ پر مبنی ہے۔
لہٰذا ان مفاسد اور قباحتوں کی بنا پر ایسے اشتہارات سے اجتناب کرنا لازم وضروری ہے، چنانچہ اپنی کاروباری مصنوعات میں بچے ،بچیوں کی حقیقی تصاویراستعمال کرنےکے بجائےڈمی ماڈل یا دیگر جائز متبادل طریقے اختیار کیے جائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ شرعی واخلاقی قباحت اور فتنہ سے مکمل حفاظت حاصل ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح مسلم: عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه : أنه سمع عائشة تقول: « دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سترت سهوة لي ‌بقرام ‌فيه ‌تماثيل، فلما رآه هتكه وتلون وجهه وقال: يا عائشة، أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله. قالت عائشة: فقطعناه فجعلنا منه وسادة أو وسادتين .( ‌‌باب: لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، ج: 6، ص: 159، الرقم: 2107، ط: دار الطباعة العامرة تركيا)
وفي مصنف عبد الرزاق: عبد الرزاق، عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن أسلم مولى عمر، قال: لما قدم عمر الشام، صنع له رجل من عظماء النصارى طعاما ودعاه، فقال عمر: ‌إنا ‌لا ‌ندخل ‌كنائسكم من أجل الصور التي فيها، يعني: التماثيل.اهـ (باب الجنب يدخل المسجد، ج: 2، ص: 123، الرقم: 1670، ط: دار التأصيل)
وفي رد المحتار: قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا.اهـ (‌‌كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فرع "لا بأس بتكليم المصلي وإجابته برأسه"، ج: 1، ص: 647، ط: إيم إيم سيعد)
وفي تكملة فتح الملهم: فإن لهذا العبد الضعيف -عفى الله عنه- فيه وقفة، وذلك لأن الصورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة الاستقرار على شيء، وهي الصورة التي كان الكفار يستعملونها للعبادة.اهـ (مسئلة التصوير في الإسلام، ج: 4، ص: 164، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67485کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات