گناہ و ناجائز

ناول کے حقِ اشاعت کو فروخت کرنے کے بعد کسی اور کو اشاعت کے لئے دینا

فتوی نمبر :
67650
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ناول کے حقِ اشاعت کو فروخت کرنے کے بعد کسی اور کو اشاعت کے لئے دینا

السلام علیکم
میں رائٹر ہوں میں نے اپنا ایک ناول ایک ویب سائٹ کو دیا تھا، پبلش کرنے کے لیے ۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پبلش کریں گے اور مجھے اس کے ہزار روپے دیے تھے، اب تقریباً ڈیڑھ سال ہو گیا ہے انہوں نے ناول پبلش نہیں کیا ۔ کیا میں یہ ناول کسی اور ویب سائٹ کو دے دوں ؟ میں نے جس ویب سائٹ کو دیا تھا اُن کے رولز میں تھا کہ میں یہ ناول اب کسی کو نہیں دے سکتی ۔پر اب وہ پبلش نہیں کر رہے تو میں کیا کروں ؟ کسی اور کو دینا جائز ہے کہ ناجائز؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ناول اگر درست اور صحیح مضامین پر مشتمل ہو، اس میں غیر شرعی امور اور مُخَرِّب اخلاق مضامین نہ ہوں، اور سائلہ نے ایک ہزار روپے کے بدلے مذکور ناول کا حق اشاعت کسی ویب سائٹ کو دے دیا ہو، اور مذکور ویب سائٹ والوں کے ”رولز “میں بھی کسی اور کو یہ حق دینے کی ممانعت ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیے یہ ناول کسی اور ویب سائٹ کو اشاعت کے لیے دینا شرعاً درست نہیں، تاہم مذکور ویب سائٹ والے اگر اس کی اشاعت نہ کرتے ہوں تو سائلہ کے لیے ان سے بات چیت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فقه البيوع (۱/۲۸۶) مط: معارف القرآن
الراجح عندنا والله سبحانه وتعالى أعلم أن حق الإبتكار والتأليف حق معتبر شرعا، فلا يجوز لأحد أن يتصرف في هذا الحق بدون إذن من المبتکر أو المؤلف اھ ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67650کی تصدیق کریں
0     142
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات