السلام علیکم!
محترم میرا سوال یہ ہے کہ "فری لانسنگ" کی ایک فیلڈ ہے ویب ڈویلپمنٹ، اس کے ذریعے کمائی کا کیا حکم ہے؟یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ اپنی اصل میں حرام نہیں ہے، کیونکہ ویب سائٹ تو بس ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے جبتک کہ اس کے ذریعے کسی حرام چیز کی تشہیر یا خرید و فروخت نہ کی جائے ,اس لئے میں اپنے سوال کو ذرا واضح کرتا ہوں ، ویب ڈویلپمنٹ میں کئی فیلڈز ہیں ، جیسے کہ بلاگنگ، آرٹیکل رائٹنگ ، گیسٹ پوسٹنگ ، ڈراپ سروسنگ وغیرہ وغیرہ،ان ویب سائٹس کے علاوہ کہ جہاں پر کوئی چیزی خریدی یا فروخت کی جاتی ہے، عمومی طور پر ویب سائٹس سے کمائی کا بنیادی ذریعہ ایڈز یعنی اشتہارات ہی ہوتے ہیں،اب یہ اشتہارات چاہے گوگل کے ہوں یا کسی اور کمپنی کے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر مجھے ایک کام ملتا ہے کہ میں نے کسی خاص موضوع پر ویب سائٹ بنانی ہے یا آرٹیکل لکھنا ہے یا لکھوانا ہے اور اس ویب سائٹ کا موضوع یا آرٹیکل کا عنوان کسی حرام چیز کے متعلق نہیں ہے، لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ یہ ویب سائٹ جو میں بنا رہا ہوں(یا آرٹیکل جو میں لکھ رہا ہوں یا لکھوا رہا ہوں یا کسی بھی حوالے سے اس پورے معاملے میں مددگار یا مڈل مین ہوں)اشتہارات کے حصول کیلئے ہے تاکہ ان اشتہارات سے کمائی کی جاسکے تو کیا یہ آرٹیکل لکھنا یا اس حوالے سے کوئی بھی کام کرنا جو کہ ویب سائٹ پر اشتہارات کے حصول میں معاون ہو حلال ہوگا یا حرام؟
لمبے سوال کیلئے معذرت! امید ہے کہ تفصیلی جواب دے کر مشکور فرمائیں گے ،آپ کیلئے دعا گو آپ کے جواب کا منتظر ،شکریہ و السلام۔
کسی جائز کام کیلئے ویب سائٹ بنانے، اس میں بلاگنگ، آرٹیکل رائیٹنگ، گیسٹ پوسٹنگ وغیرہ کے آپشن رکھنے یا کسی ویب سائٹ کیلئے جائز امور پر مشتمل آرٹیکل و مضامین لکھنے یا لکھوانے میں تو شرعاً کوئی حرج اور مضائقہ نہیں (خواہ ان امور سےاشتہارات کے ذریعے کمائی کا حصول ہی مقصود کیوں نہ ہو) البتہ اشتہارات کے ذریعےکمائی کے حلال ہونے نہ ہونے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اشتہارات اگر کسی قسم کی بے حیائی و فحاشی یا دیگر غیر شرعی امور پر مشتمل یا ان کی طرف رہنمائی کرنے والے نہ ہوں تو ایسی صورت میں انکے ذریعہ حاصل ہونے والی کمائی کو اپنے استعمال میں لانا شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا، ورنہ اس سے احتراز لازم ہے۔
فی تفسير الطبري : (وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَ لا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَ الْعُدْوَانِ)(المائدة:٢)يعني جل ثناؤه بقوله و تعاونوا على البر و التقوى , و ليعن بعضكم أيها المؤمنون بعضا على البر ،و هو العمل بما أمر الله بالعمل به و التقوى هو اتقاء ما أمر الله باتقائه و اجتنابه من معاصيه ، و قوله : و لا تعاونوا على الإثم و العدوان يعني : و لا يعن بعضكم بعضا على الإثم ، يعني على ترك ما أمركم الله بفعله , والعدوان , يقول :و لا على أن تتجاوزوا ما حد الله لكم في دينكم ،و فرض لكم في أنفسكم و في غيركم .(8/52)-
و في الهندية :و أما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين ، و منها أن يكون المعقود عليه و هو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد و إلا فلا اھ(4/411)-
و فی ردالمحتار : و إنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار اھ(6/392)-