ایک ویب سائٹ میں لنک کے توسط سے بندہ آپ کو 3500 روپے لیکر ایڈ کردیتا ہے، اور اس بندے کو ایڈ کرنے پر بونس ملتاہے، اور ہفتہ وار اور ماہانہ بنیاد پر ممبر بناتاہے، اور جتنے زیادہ بونس لینا ہو اتنے زیادہ ممبر ایڈ کریں اتنے پیسے ملیں گے ،کام صرف پیسے لیکر ممبرکو شامل کرنا ہے، کیا یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟
سوال میں مذکور طریقہ کار کو نیٹ ورک مارکیٹنگ کہاجاتاہے، جس میں کمپنیوں اصل مقصد کاروبار کرنا نہیں ہوتاہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لۓ زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لۓ کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لۓ انہیں ایک لنک دیاجاتاہے، پھر اگرکوئی شخص اس پرانے ممبرکے توسط سے اس چین کا حصہ بنتاہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیا جاتا ہے، اور یہ سلسلہ کمیشن درکمیشن چلتا رہتاہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اور قمارکی ایک صورت ہے۔
اسی طرح اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت بھی نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتاہےاوراس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبرکو بغیر کسی محنت وعمل کے منافع بھی مل رہا ہوتا ہے، جو شرعاًجائز نہیں۔
قال اللہ سبحانہ و تعالی :﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.(المائدة:90)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: و لا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار ، و أن المخاطرۃ من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرۃ قمار ، و إن أہل الجاہلیۃ کانوا یخاطرون علی المال و الزوجۃ ، و قد کان ذلک مباحاً إلی أن ورد تحریمہ۔( ۱/۳۹۸)۔
نہی رسول اللّٰہ صلى الله عليه و سلم عن بَیْعِ الْغَرَرِ (مسلم، ابوداؤد: 6۷۳۳)۔
و فی بدائع الصنائع فصل في شروط جواز السابق : و لو کان الخطر من الجانبین جمیعًا و لم یدخلا فیہ محللاً لا یجوز ؛ لأنہ في معنی القمار ، نحو أن یقول أحدہما لصاحبہ : إن سبقتني فلک عليّ کذا ، و إن سبقتک فلي علیک کذا ، فقبل الآخر"(۸/۳۵۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
و فی الشامیۃ :لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً و ينقص أخرى ، و سمي القمار قماراً ؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، و يجوز أن يستفيد مال صاحبه و هو حرام بالنص۔( 6/403)۔