گناہ و ناجائز

بے نمازی کے متعلق کسی کے سامنے یہ کہہ دینا"کہ یہ نماز نہیں پڑھتا"غیبت میں داخل ہوگا؟

فتوی نمبر :
67808
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بے نمازی کے متعلق کسی کے سامنے یہ کہہ دینا"کہ یہ نماز نہیں پڑھتا"غیبت میں داخل ہوگا؟

ترجمہ: اگر کوئی سستی یا اور کسی عذر کی وجہ سے جو اسلام میں قابلِ قبول نہ ہو نماز نہ پڑھے اور میں کسی کو اس مرد یا عورت کے بارے میں بتاؤں کہ وہ نماز نہیں پڑھتا یا پڑھتی تو کیا یہ غیبت شمار ہو گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی مرد یا عورت کھلم کھلا ترکِ نماز کے مرتکب ہوں اور ان کا نماز نہ پڑھنا لوگوں میں مشہور ہو تو ایسے مرد یا عورت کے متعلق یہ کہہ دینا کہ وہ نماز نہیں پڑھتے غیب میں داخل نہیں،تاہم بلا کسی ضرورت لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرنے کے بجائے بذاتِ خود حکمت و بصیرت کیسا تھ انہیں سمجھا کرنماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما ردالمحتار:قلت:وما اشتهر بين العوام من أنه لا غيبة لتارك الصلاة إن أريد به ذكره بذلك وكان متجاهرا فهو صحيح وإلا فلا اھ(6/409)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67808کی تصدیق کریں
0     503
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات