ترجمہ: اگر کوئی سستی یا اور کسی عذر کی وجہ سے جو اسلام میں قابلِ قبول نہ ہو نماز نہ پڑھے اور میں کسی کو اس مرد یا عورت کے بارے میں بتاؤں کہ وہ نماز نہیں پڑھتا یا پڑھتی تو کیا یہ غیبت شمار ہو گی؟
اگر کوئی مرد یا عورت کھلم کھلا ترکِ نماز کے مرتکب ہوں اور ان کا نماز نہ پڑھنا لوگوں میں مشہور ہو تو ایسے مرد یا عورت کے متعلق یہ کہہ دینا کہ وہ نماز نہیں پڑھتے غیب میں داخل نہیں،تاہم بلا کسی ضرورت لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرنے کے بجائے بذاتِ خود حکمت و بصیرت کیسا تھ انہیں سمجھا کرنماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہئے۔
کما ردالمحتار:قلت:وما اشتهر بين العوام من أنه لا غيبة لتارك الصلاة إن أريد به ذكره بذلك وكان متجاهرا فهو صحيح وإلا فلا اھ(6/409)