محترم مفتی صاحب درج ذیل مسئلہ کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں بتلا کر مشکور فرمائیں ،
حاملہ خاتون کی طبیعت خراب ہوئی 5 ماہ کا حمل تھا یقینی تو نہیں تھا کہ خاتون کی جان پر بن آئے لیکن خطرہ تھا ،پھر بچے کے اعضاء نامکمل تھے ، پھیپھڑے اور پسلیاں بھی بہت زیادہ متاثر تھیں ، تو ڈاکٹروں نے موقف اختیار کیا کہ آپریشن ضروری ہے ، تو آپریشن کروا کر بچہ ضائع کروا دیا گیا ، اب والدین کے دل مضطرب ہیں ،کیا ایسی صورت میں یہ عمل کرنے سے گناہ تو نہیں ہوا ،
حمل پر چار ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد اس میں روح پڑ جاتی ہے، اور وہ ایک زندہ انسان بن جاتاہے، اور عام حالات میں اس کو ضائع کرنا ایک زندہ انسان کو قتل کرنے کا مترادف ہے، لیکن سوال میں مذکور خاتون کی طبیعت اگر واقعۃ اس قدر خراب ہوگئی تھی، کہ ماہر دیندارڈاکٹروں نے والدہ کی جان بچانے کی خاطر بچے کے ضائع کرنے کو ضروری قراردیاہو، اور والدین نے بھی ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد اس پر آمادگی ظاہر کردی ہو، تو اس کی وجہ سے امید ہے کہ والدین گنہگار نہ ہوں گے، لیکن زندہ انسان کی قتل کرنے کی اجازت نہ ہونےکی وجہ سے توبہ واستغفار بہرحال ضروری ہے۔
کما فی ردالمحتار:
وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث(كتاب النكاح، باب الاستبراء وغيره، ج:6،ص:374)