بلوچستان، کوئٹہ میں واقع ایک مسجد “مسجد عمر بن خطاب” کے متعلق سوال ہے۔ اس مسجد میں تقریباً پچاس سال سے باقاعدگی کے ساتھ نمازِ پنج وقتہ اور جماعت کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ یہ مسجد سریاب روڈ پر واقع ہے۔
اب چونکہ سریاب روڈ کو کشادہ کیا جارہا ہے، اس لیے مذکورہ مسجد سڑک کی توسیع کے منصوبے میں آرہی ہے، اور حکومت اس مسجد کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل بھی 1995ء میں حکومت نے اس مسجد کو شہید کردیا تھا، تاہم بلوچستان کے ایک نامور عالمِ دین نے اس مسئلے کو اٹھایا، جس کے نتیجے میں الحمدللہ حکومت نے دوبارہ مسجد تعمیر کردی تھی۔
اب دوبارہ سریاب روڈ کی توسیع کے سبب حکومت اس مسجد کو گرانا چاہتی ہے۔ بلوچستان کے ایک مشہور و معروف عالمِ دین نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے، لیکن حکومت اور بعض لوگ ان کی بات قبول نہیں کررہے، بلکہ مسجد کو شہید کرکے سڑک کشادہ کرنے پر اصرار کررہے ہیں۔
اس صورتِ حال کے بارے میں علماء و مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں؟ شرعی رہنمائی فرما کر وضاحت فرمائیں۔
اگر واقعۃً مذکور مسجد باقاعدہ مسجد کے طور پر وقف ہوچکی ہے، اور گزشتہ تقریباً پچاس سال سے وہاں پنج وقتہ نماز اور جماعت کا مستقل اہتمام ہوتا رہا ہے، تو ایسی مسجد شرعاً “مسجدِ شرعی” کے حکم میں داخل ہے؛ لہٰذا محض سڑک کشادہ کرنے یا روڈ کی توسیع کی غرض سے اسے منہدم کرکے اس جگہ کو روڈ کے لیے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز الازم ہے۔
کما فی الہندیۃ: إن أرادوا أن يجعلوا شيئاً من المسجد طريقاً للمسلمين فقد قيل: ليس لهم ذلك وأنه صحيح، كذا في المحيط.(457/2، ط: رشيديه)
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ: وقف المسجد حين يتم يصير خالصاً لله تعالى، وأن المساجد لله، وخلوصه لله تعالى يقتضي عدم جواز الرجوع فيه.(7621/10، ط: دارالفکر)
وفیہ أیضاً: ويجوز للإمام جعل الطريق مسجداً، لا عكسه، لجواز الصلاة في الطريق، ولا يجوز أن يتخذ المسجد طريقاً(7675/10، ط:دار الفکر)