گناہ و ناجائز

ناجائز تعلق رکھنے والی بیوی کا زیور وغیرہ ضبط کرنا

فتوی نمبر :
67930
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ / گناہ و ناجائز

ناجائز تعلق رکھنے والی بیوی کا زیور وغیرہ ضبط کرنا

میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں، کیوں کہ اُس نے زنا کیا اور ثبوت کے ساتھ پکڑی گئی اور خود قبول بھی کر لیا، سوال یہ ہے کہ شادی کے وقت سے لے کر اب تک جو تحفے میں نے اور میرے گھر والوں نے ان کو دیئے ہیں ، خاص طور پر زیورات، کیا طلاق کے وقت یا اس کے بعدمیری بیوی کا ان پر شرعاً حق ہو گا؟ دوسرا میری بیوی نے ہماری پچیسویں شادی کی سالگرہ کے موقع پر مجھ سے زور کر کے(ایموشنل بلیک میل کر کے)ایک اپارٹمنٹ خریدنے کی خواہش کی، جس کے لئے انہوں نے اپنے سالوں سے کمائے گئے پیسے میرے پیسوں کی کمیٹی میں جمع کئیے، پیسے مجھ کو دیئے جو کہ اپارٹمنٹ کی کل قیمت کا ٪40 بنتا تھا، بقیہ ٪60 میں نے اپنی طرف سے دیئے اور اپارٹمنٹ تحفے میں خرید کر اُن کے نام کر دیا، لیکن اس وقت اُن کا دوسرے مرد کے ساتھ جسمانی تعلق تھا، جسکا مجھے ایک سال بعد اب سے چھ ما ہ پہلے پتہ چلا، اورمیں نے اُن کو گھر سے نکال کر اسی اپارٹمنٹ میں رہنے کی اجازت دی ہے، کیوںکہ وہ یتیم ہیں اوران کی بہنیں ان کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی ہیں، گھر سے نکلتے وقت ان کا تمام زیور اور جمع کردہ کُچھ رقم اپنے پاس رکھ لیا، لیکن باقی اُن کا تمام سامان مثلاً کپڑے ،جوتے،فرنیچر ،AC ،TV اور ضروریات کا تمام سامان ان کو دے دیا ، پچاس ہزار ماہانہ اخراجات کے لئیے بھی دے رہا ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا اس ٪ 60 تحفے پر اُن کا شرعاً حق ہو گا؟ ایک اہم بات یہ ہے کہ ہماری شادی کو 26 سال ہو گئے ہیں ، اور میری بیوی کے پچھلے 20 سال سے مختلف مردوں کے ساتھ تعلق پکڑا گیا، اور میں نے اُن کو گھر سے باہر بھی نکالا، لیکن کبھی زنا کے ثبوت نہ ملے، اس لئیے کئی بار معاف کر کے گھر واپس لے آیا ، کیا مجھے ان کا روکا گیا پیسہ اور زیور اُن کو دے دینا چاہیئے یا کیا کرنا چاہیئے؟ شرعاً رہنمائی فرمائیے۔۔۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست و مبنی بر حقیقیت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی کا غیر مردوں کیساتھ جسمانی تعلقات رکھنے کی مرتکب ہو چکی ہو ، تو اسکا یہ عمل ناجائز اور حرام ہے،جسکی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے، جس پر اسے اللہ کے حضور بصدقِ دل تو بہ واستغفار کے ساتھ آئندہ ایسے امور سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائل کی بیوی کا بار بار اس جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اگر سائل اسے طلاق دینا چاہے، تو شرعاً سائل کو اسکا اختیار ہے،البتہ سائل اور اسکے اہلِ خانہ کی طرف سے سائل کی بیوی کو جو زیورات وغیرہ دیئے گئے ہیں،یا سائل نے اسے جو اپارٹمنٹ دیا ہے،یہ اگر فقط استعمال کیلئے نہ ہو ،بلکہ باقاعدہ مالکانہ قبضے کیساتھ اسے بطورِ ہبہ اور گفٹ دیئے گئے ہوں ، تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کی بیوی ان زیورات اور اپارٹمنٹ وغیرہ کی مالکہ بن چکی ہے،اب سائل یا اسکے اہلِ خانہ کیلئے، سائل کی بیوی سے یہ اشیاء واپس لینا جائز نہ ہوگا،البتہ اگر سائل بیوی کی کوتاہی کیوجہ سے حق مہر کی معافی کے عوض بیوی کو خلع یا طلاق دیدے اور بیوی بھی اس پر رضامند ہو تو شرعاً اسکی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی كنز العمال:"لا يزني الرجل وهو مؤمن ولايشرب الخمر وهو مؤمن ينزع منه الإيمان ولا يعود إليه حتى يتوب فإذا تاب عاد إليه"۔ (حل عن أبي هريرة)(254/1)
و فی ردالمحتار:(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة)ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال-صلى الله عليه وسلم-لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها:استمتع بها»اهـ (427/6)
و في الدر المختار: شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح اھ(688/5)
و فى الهندية:ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ(374/4) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67930کی تصدیق کریں
0     897
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات