کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اور مفتیانِ عظام از روئے شریعت اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میں ایک سرکاری سکول میں جماعتِ نہم اور دہم کا استاد ہوں ، جماعتِ نہم اور دہم کا امتحان بو رڈ لیتا ہے، جس کے لئے سکول میں حاضری 6%75 ہونا شرط ہے،ہمارے ادارے میں کچھ بچے سارا سال سکول نہیں آتے ، اور آخر میں جب ادارے کی طرف سے بورڈ کو امتحان کے لئے تمام طلباء کے کاغذات بھیجے جاتے ہیں ، تو یہ بچے جو سارا سال سکول نہیں آتے ،اس وقت آکر اپنا نام داخل کروا کر اپنے کاغذات امتحان کے لئے جمع کروا دیتے ہیں ، نام کا دوبارہ داخل کرنا ادارے کے سربراہ کی صوابدید ہے،اور اس میں ہمارا کوئی بھی عمل دخل نہیں ، جماعتِ نہم اور دہم کے طلباء کے عملی امتحانات (Practicals) بھی سکول میں متعلقہ استاد لیتے ہیں ، ان امتحانات کے نمبر میٹرک کے نمبروں میں شامل کیے جاتے ہیں، وہ بچے جو سارا سال سکول نہیں آتے ،وہ بھی یہ امتحان دیتے ہیں ،اور وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کو پاس کیا جائے، اور بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں ،جو (Practical )کا امتحان نہیں دیتے ،لیکن نام داخل ہونے کی وجہ سے ہمیں ان سب بچوں کو پاس کرنا پڑتا ہے ، کیونکہ اگر ہم انہیں پاس نہ کریں تو یہ میٹرک میں فیل تصور کیے جاتے ہیں ،جب تک کہ پریکٹیکل پاس نہ کر لیں ،بورڈ کے امتحانات میں نقل کا عام رجحان ہے ، اس لئے تمام بچے جو سارا سال حاضر ہوں ،یا غیر حاضر ان کو امتحان میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ،سب نقل کرتے ہیں ، اگر استاد پر یکٹیکل میں سارا سال غیر حاضر رہنے والے بچوں کو پاس کرے ،تو دوسرے تمام بچوں کے ساتھ زیادتی محسوس ہوتی ہے ، اور اگر پاس نہ کرے ،تو ان کا پورا سال ضائع ہو جاتا ہے ، اس صورت حال میں استاد کے لیے کیا حکم ہے، شریعت کی روشنی میں رہنمائی کریں !
صورتِ مسئولہ میں مذکور اسکول انتظامیہ کا سال بھر غیر حاضر رہنے والے طلباء کی حاضری لگا کر انہیں بورڈ کے مطلوبہ شرائط کے مطابق اہل قرار دیکر امتحان دلوانا دھوکہ دہی اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، اسی طرح ان غیر حاضر طلباء کو اسکول کی سطح پر ہونے والے پریکٹیکل امتحان میں ناکام ہونے کے باوجود انہیں کامیاب قرار دینا بھی سراسر جھوٹ ،دھوکہ دہی کے علاوہ دیگر صاحبِ استعداد طلباء کی حق تلفی اور حوصلہ شکنی کا بھی سبب ہے ،اس لئے اسکول منتظم سمیت دیگر اساتذہِ کرام کو اس طرح غیر شرعی امور میں معاونت کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا۔ (النساء،58) ۔
و فی مقام آخر؛ وَ إِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ۔(الانفال ،58) ۔
و فی مرقاۃ المفاتیح : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ -: " «آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ» ". زَادَ مُسْلِمٌ: " «وَ إِنْ صَامَ وَ صَلَّى وَ زَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ» "، ثُمَّ اتَّفَقَا: ( «إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ» ۔
قوله : (إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ) وَ هُوَ أَقْبَحُ الثَّلَاثَةِ، (وَ إِذَا وَعَدَ) أَيْ أَخْبَرَ بِخَيْرٍ فِي الْمُسْتَقْبَلِ إِذْ " وَعَدَ " يَغْلِبُ فِي الْخَيْرِ، وَ " أَوْعَدَ " فِي الشَّرِّ، وَ أَيْضًا الْخُلْفُ فِي الْوَعِيدِ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ،الخ ، (أَخْلَفَ) أَيْ جَعَلَ الْوَعْدَ خِلَافًا بِأَنْ لَمْ يَفِ بِوَعْدِهِ الخ ،(وَ إِذَا اؤْتُمِنَ):وَ لَعَلَّ هَذَا الْإِعْلَالَ قَبْلَ دُخُولِ إِذَا عَلَيْهِ، وَ مَعَ هَذَا قَالَ الْبَيْضَاوِيُّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ} [البقرة: 283]،(خَانَ) وَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَ التِّرْمِذِيُّ، وَ إِنَّمَا خَصَّ هَذِهِ الثَّلَاثَةَ بِالذِّكْرِ لِاشْتِمَالِهَا عَلَى الْمُخَالَفَةِ الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا مَبْنَى النِّفَاقِ مِنْ مُخَالَفَةِ السِّرِّ الْعَلَنَ، فَالْكَذِبُ الْإِخْبَارُ عَلَى خِلَافِ الْوَاقِعِ، وَ حَقُّ الْأَمَانَةِ أَنْ تُؤَدَّى إِلَى أَهْلِهَا، فَالْخِيَانَةُ مُخَالَفَةٌ لَهَا، وَ إِخْلَافُ الْوَعْدِ ظَاهِرٌ؛ وَ لِهَذَا صَرَّحَ بِـ " أَخْلَفَ ". فَإِنْ قِيلَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُشْكِلٌ مِنْ حَيْثُ إِنَّ هَذِهِ الْخِصَالَ قَدْ تُوجَدُ فِي الْمُسْلِمِ الْمُجْمَعِ عَلَى عَدَمِ الْحُكْمِ بِكُفْرِهِ، قُلْنَا: اللَّامُ فِي الْمُنَافِقِ إِمَّا أَنْ تَكُونَ لِلْجِنْسِ، وَ أَمَّا إِذَا وَ عَدَ أَخْلَفَ فَذَلِكَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ} [التوبة: 77] الْآيَةَ. وَ أَمَّا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ فَذَلِكَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ} [الأحزاب: 72] الْآيَةَ، وَ أَنْتُمْ بُرَآءُ مِنْ ذَلِكَ» اھ(1/127) ۔والله اعلم