کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص علماءِ کرام کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرے اور اُنکے بارے میں یہ کہے کہ یہ زانی ہیں ، چور ، حرامی ہیں ، تو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ علماءِ کرام انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ورثاء اور اُمت کا عظیم سرمایہ ہیں، اور فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص بلاوجہ علماءِ کرام سے بغض رکھے، اُس پر کفر کا اندیشہ ہے، لہذا علماءِ کرام سے بغض رکھنا یا اُنکو برا بھلا کہنا انتہائی خطرے کی بات ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جو شخص بلا تحقیق کسی عالمِ دین پر بہتان ، الزام تراشی اور اُسکی کردار کشی کر رہا ہے، تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس طرزِ عمل سے جلد از جلد باز آکر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ اس عالم سے بھی اپنی اس غلط حرکت پر معافی مانگے، اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے اور اپنی آخرت برباد نہ کرے ، اہلِ محلہ کو چاہیئے کہ اس شخص کو حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کریں، لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اپنی اس غلط حرکت سے باز نہ آئے اور اسی پر مصر ہو تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ قطعِ تعلقی بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔
کما فی سنن الترمذی : ان العلماء ورثة الانبیاء ، ان الانبیاء لم یورثوا دیناراً و لا درھماً انما و رثوا العلم۔الحدیث (2/97)۔
و فی الهندية : من أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر۔اھ (2/ 270)۔
و فیھا ایضاً : رجل يجلس على مكان مرتفع ، و يسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء ، ثم يضربونه بالوسائد ، و هم يضحكون يكفرون جميعا۔اھ (2/ 270)۔