گناہ و ناجائز

عذرِ معقول کی بناء پر اسقاط حمل کا حکم

فتوی نمبر :
68261
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عذرِ معقول کی بناء پر اسقاط حمل کا حکم

کیا اسقاطِ حمل کی اجازت ہے ؟ اگر ماں پہلے سے ایک پانچ سال کی بیٹی پال رہی ہو ،اور مشترک فیملی میں رہتے ہوں ،شوہر کی معاشی حالت بھی اجازت نہیں دیتی دوسرے بچہ کی ،اور ماں کی صحت بھی اچھی نہیں ہے ،مشترک فیملی میں رہتے ہیں کام کرکے تھک جاتی ہو ،پہلی بیٹی کو بھی صحیح سے وقت نہیں دیتی ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلاعذر اسقاطِ حمل کرنا تو شرعاً درست نہیں ،البتہ کسی عذر مثلاً دو بچوں کے درمیان مناسب وقفہ کیلئے ،یا ماں کی بیماری ، کمزوری کی بناء پر اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے ،بشرطیکہ اس حمل پر چار ماہ نہ گزرے ہوں ،لہذا مذکور عورت کو بھی اگر اس طرح کا کوئی عذر لاحق ہو ،تو ایسی صورت میں چار ماہ سے پہلے اس حمل کو ساقط کرنے کی گنجائش ہے ،جبکہ حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اسقاطِ حمل جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور الخ
و فی الشامیۃ : تحت (قوله و يكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور و بعده على ما اختاره في الخانية(الی قولہ ) (قوله و جاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل و انقطع لبنها و ليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر و يخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة و لم يخلق له عضو و قدروا تلك المدة بمائة و عشرين يوما ، و جاز لأنه ليس بآدمي و فيه صيانة الآدمي خانية اھ (6/429)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68261کی تصدیق کریں
0     865
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات