گناہ و ناجائز

شرابی آدمی کے حلف کا حکم

فتوی نمبر :
68308
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شرابی آدمی کے حلف کا حکم

السلامُ علیکم مفتی صاحب ! اگر کسی نے تقریباً 20سے 25 دن پہلے شراب کا نشہ کیا ہو اور وہ حلف برداری میں حلف اٹھاتا ہے تو کیا اس کا حلف اٹھانا درست مانا جائے گا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شراب پینا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے ، احادیثِ مبارکہ میں اس کے متعلق سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے اگر کسی نے شراب کا نشہ کیا تو اس کے ذمہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استعفا ر اور آئندہ کے لئے نشہ کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر ایسا شخص بیس پچیس دن بعد حلف اٹھاۓ تو اس کا حلف معتبر ہوگا، اور حلف کی خلاف ورزی کی صورت میں قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَ ٱلۡمَيۡسِرُ وَ ٱلۡأَنصَابُ وَ ٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ﴾[ المائدة: 90]۔
و فی صحيح مسلم : حدثنا سليمان بن داود ، و محمد بن عيسى في آخرين ، قالوا : حدثنا حماد يعني ابن زيد ، عن ايوب ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :" كل مسكر خمر ، و كل مسكر حرام ، و من مات و هو يشرب الخمر يدمنها لم يشربها في الآخرة".(2003)۔
و فی كتاب الفقه على المذاهب الأربعة : يشترط لانعقاد اليمين شروط ، منها أن يكون الحالف مكلفاً ، فلا ينعقد يمين الصبي و المجنون . و منها أن يكون مختاراً ، فلا ينعقد يمين المكره و لا يحنث إذا أكره على فعل المحلوف عليه ، و مثله الناسي و المخطيء فإنهما لا شيء عليهما و منها أن يكون قاصداً ، فلا ينعقد يمين يسبق بها اللسان بدون قصد . و منها أن يكون المحلوف به اسماً من أسماء الله تعالى أو صفة من صفاته على التفصيل الآتي في مبحث صيغ الأيمان الخ (60/2)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68308کی تصدیق کریں
0     738
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات