السلام علیکم!
میری بہن کی دوست کاروبار کرتی ہے، میری بہن کمیشن ایجنٹ ہے، جو کاروبار کرتی ہے، اس نے میری بہن کو کہا ہوا ہے کہ جو بھی چیز اپنی ویب سائٹ پر لگاؤ اس پر اپنا منافع رکھ لیا کرو ، اس طرح میری بہن نے میری بیوی کو کہا ہے کہ وہی چیز تم بھی اپنی ویب سائٹ پر لگا کر اپنا منافع رکھ لیا کرو ، جب چیز فروخت ہو جائے گی تو اصل مالک منافع ادا کر دے گی ، مثال کے طور پر کسی چیز پر 100روپیہ منافع رکھا ہے وہ ادا کر دے گی،کیا یہ صورت جائز ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل کی بہن کا مذکور اشیاء فروخت کرکے زائد رقم اپنے کمیشن کے طور پر رکھنا اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز اور درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مذکور عورت اپنے اشیاء کی قیمت مقرر کرکے سائل کی بہن کو بتا دے کہ مثلاً یہ کپڑا پندرہ سو میں فروخت کرنا ، جب فروخت ہوجائے گا ، تو اس میں سے تین سو روپے آپ کا کمیشن ہوگا اور بارہ سو روپے مجھے دینا تو اس طرح کمیشن طے کرکے معاملہ کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی مجلة الاحکام العدلیة : لَوْ أَعْطَى أَحَدٌ مَالَهُ لِدَلَّالٍ وَ قَالَ بِعْهُ بِكَذَا دَرَاهِمَ فَإِنْ بَاعَهُ الدَّلَّالُ بِأَزْيَدَ مِنْ ذَلِكَ فَالْفَضْلُ أَيْضًا لِصَاحِبِ الْمَالِ وَ لَيْسَ لِلدَّلَّالِ سِوَى الْأُجْرَةِ اھ (107)۔
و فی درر الحکام شرح مجلة الاحکام : و إذا أعطى أحد مالا للدلال قائلاً: إذا بعت المال بزيادة عن كذا فلك الزيادة فالإجارة فاسدة انظر المادة اھ (662/1)