السلام علیکم ! سلام کے بعد میرا سوال یہ ہے کہ پرائمری اسکول کا ہیڈ ٹیچر جس کو قانون کے مطابق کلاس لینے کا حکم ہے کیا وہ کسی افسر کے کہنے پر کلاس نہ لے یا کسی افسر نے اسکول کا خیال رکھنے کو کہا ہو اور وہ اسکول بھی نہ سنبھالے تو کیا اس کی تنخواہ حلال ہے ؟
نوٹ! پرائمری اسکول ٹیچر کو کلاس لینا دوسرے ٹیچرز کی طرح ضروری ہے۔
واضح ہو کہ گونمنٹ کی طرف سے ملازم کے لئے صرف مقررہ وقت متعلقہ جگہ پر گزارنا کافی نہیں ہوتا بلکہ مقررہ وقت میں متعلقہ امور اور ذمہ داریوں کی انجام دہی بھی مقصود ہوتی ہے ، ورنہ اس میں خیانت کی صورت میں کوتاہی کے بقدر تنخواہ کی وصولی بھی درست نہ ہوگی ، لہٰذا سوال میں مذکور ہیڈ ٹیچر اگر محکمہ تعلیم اور انتظامیہ کی جانب سے کلاس لینے کا پابند ہو ، تو کسی غیر متعلقہ افسر کی پشت پناہی کی بنا پر اس کا مفوضہ کلاس لینے میں کوتاہی کرنا درست نہ ہوگا بلکہ مذکور ہیڈ ٹیچر قانون کے ضابطہ کی خلاف ورزی اور خیانت کے ساتھ ساتھ طلباء کی حق تلفی کا بھی مرتکب ہورہا ہے ، اور اس کی وجہ سے وہ گنہگار بھی ہورہا ہے ، اس لئے اس پر لازم ہے کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے مقررہ ذمہ داری کو اپناتے ہوئے پابندی کے ساتھ طلباء کو ان کا پورا حق دینے کا اہتمام کرے۔
کما فی ردالمحتار : (قوله إذا فرغ وسلمه) اعلم ( إلی قولہ ) إن وقعت الإجارة على المدة كما في إجارة الدار والأرض أو قطع المسافة كما في الدابة وجب بحصة ما استوفى لو له أجرة معلومة بلا مشقة ( إلی قولہ ) وإن وقعت على العمل كالخياطة والقصارة فلا يجب الأجر ما لم يفرغ منه فيستحق الكل؛ لأن العمل في البعض غير منتفع به، وكذا إذا عمل في بيت المستأجر ولم يفرغ لا يستحق شيئا من الأجرة على ما ذكره صاحب الهداية والتجريد اھ ( کتاب الاجارۃ ، ج۳ ، ص۱۴ ، ط۔سیعد )۔
و فی شرح المجلّۃ : الاجیر الخاص یستحق الاجرۃ اذا کان فی مدۃ الاجارۃ حاضراً للعمل ولا یشترط علیہ بالفعل ، لکن لیس لہ ان یمتنع عن العمل و اذا امتنع لایستحق الاجرۃ ال ( کتاب الاجارۃ ، ج۱ ، ص۴۸۷ ، ط۔رشیدیہ )۔