گناہ و ناجائز

ناجائز حمل کو ساقط کرنےکا حکم

فتوی نمبر :
68751
| تاریخ :
2023-10-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ناجائز حمل کو ساقط کرنےکا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے متعلق ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر نے استفسار کیا ہے کہ ، میرے پاس والدین ایک تیرہ سالہ بچی کو لائے، جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، اور اس زیادتی کے نتیجے میں مذکورہ بچی حاملہ ہو چکی ہے، والدین کہتے ہیں کہ ، کوئی ایسی دوا بتلا دیں کہ، جس سے بچی کا حمل ساقط ہو جائے یا کوئی علاج کروائیں، مذکورہ بچی تین ماہ کی حاملہ ہے ، تو کیا ایسی صورت میں حمل ساقط کروانا جائز ہوگا یا نہیں ؟ کیونکہ ڈاکٹر کو خون کے گناہ میں پڑنے کا خوف ہے۔ براہ ِکرم اس سلسلے میں ہماری مکمل رہنمائی فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زنا جیسےقبیح عمل کا ارتکاب کرنا شرعاً نا جائز اور حرام عمل ہے، جسکی وجہ زنا کرنے والا شخص سخت گناہگار ہوا ہے،اسلامی قانون نافذ العمل ہونے کی صورت میں ثبوتِ جرم کے بعد ایسے شخص پر سخت سے سخت سزا جاری کی جاتی، چنانچہ مذکورشخص پر اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اپنے افعال کے ارتکاب سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
جبکہ مذکور تیرہ سالہ بچی کیساتھ اگر واقعۃً زیادتی کی گئی ہو ، وہ شریک ِجرم نہ ہو ، تو ایسی صورت میں امید ہے کہ وہ گناہگار نہ ہوگی، اور حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنےسے قبل لیڈی ڈاکٹر کیلئے دواء یا کسی دوسری تدبیر کے ذریعے اسقاطِ حمل کی گنجائش ہوگی، جبکہ حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اسقاطِ حمل جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها وهو مؤمن»(136/3)
و في رد المحتار:(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج اهـ (3/176)
و فی الدر المختار:(وفي جانب المرأة يرخص)لها الزنا (بالإكراه الملجئ) لأن نسب الولد لا ينقطع فلم يكن في معنى القتل من جانبها بخلاف الرجل (لا بغيره لكنه يسقط الحد في زناها لا زناه) لأنه لما لم يكن الملجئ رخصة له لم يكن غير الملجئ شبهة له۔(6/137)
و فی ردالمحتار: (قوله: لأنه لما لم يكن الملجئ رخصة له إلخ) تعليل لقوله لا زناه، وإذا لم يرخص له يأثم في الإقدام عليه وأما المرأة هل تأثم ذكر شيخ الإسلام إن أكرهت على أن تمكن من نفسها، فمكنت تأثم وإن لم تمكن وزنى بها فلا وهذا لو بملجئ وإلا فعليه الحد بلا خلاف لا عليها ولكنها تأثم هندية اھ(137/6)
و فی الهندية:وأما المرأة إذا كانت مكرهة على الزنا هل تأثم.ذكر شيخ الإسلام في شرحه في باب الإكراه على الزنا أنها إن أكرهت على أن تمكن من نفسها فمكنت فإنها تأثم، وإن لم تمكن هي من الزنا وزنى بها لا إثم عليها، وذكر أيضا في الإكراه إذا أكرهت على الزنا فمكنت من نفسها فلا إثم عليها، وهذا كله إذا كان الإكراه بوعيد تلف، فإن كان الإكراه بوعيد سجن أو قيد فعلى الرجل الحد بلا خلاف، وأما المرأة فلا حد عليها ولكنها تأثم، ولو امتنع المكره عن الزنا حتى قتل فهو مأجور، كذا في المحيط اھ(5/48)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68751کی تصدیق کریں
0     772
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات