السلام علیکم !
میرا نام عبد الباسط ہے ، میں چاول کا کاروبار کر تا ہوں اور اس میں جب نئی فصل آتی ہے ، تو میں چاول خرید لیتا ہوں اور پھر گودام میں محفوظ کر لیتا ہوں ، اور تقریبا چار پانچ ماہ بعد مناسب دام ملنے پر فروخت کر دیتا ہوں ، کیا ایسا کاروبار کرنا شرعًا صحیح ہے یا نہیں ؟ اور کیا یہ ذخیرہ اندوزی میں تو نہیں آتا ؟ شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں سائل کے مذکور طریقہ پر چاولوں کی خریداری اگر مارکیٹ میں چاولوں کی قلت اور عوام الناس کیلئے اس کے ریٹ بڑھنے کا سبب نہ بن رہا ہو ، تو سائل کے لئے نئی فصل کے موقع پر مناسب مقدار میں چاول خرید کر اسٹاک کرنا اور بعد میں مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر کے نفع کمانا، شرعاً جائز اور درست ہوگا –
کما فی الھندیة : الاحتکار مکروہ و ذلک ان یشتری طعاما فی مصر و یمتنع من بیعه و ذلک یضر بالناس کذا فی الحاوی ( الی قوله) و اذا اشتری فی ذلک المصر و حبسه و لا یضر باھل المصر و لا باس فی کذا الخ ( الی قوله) و اذا اشتری من مکان قریب من المصر فحمل طعاما الی المصر و حبسه و ذلک یضر باھله فھو مکروہ الخ ( کتاب البیوع فصل فی الاحتکار ج 3 صـ 213 ط : سعید) – والله اعلم