کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دی ہے، اوراب بغیر حلالۂ شرعیہ کےاپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم
کیے ہوئے ہے ،جبکہ سائل کے ہر طریقہ سے سمجھانےکےباوجودبھی بیٹا اپنی روش پرقائم ہے، اورسائل اس قطع تعلق ہوچکاہے ،اب مسئلہ یہ ہے کہ سائل کے بقیہ بچے اس سے تعلق رکھیں یا نہ رکھیں؟ اور اگر کوئی بچہ اس سے تعلق رکھتا ہے تو سائل اس سے بھی قطع تعلقی کرلے؟ اور اس کے گھر کوئی دعوت وغیرہ قبول کرے یا نہ کرے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
سائل کے بیٹےنے اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہوں ،تو اس سے سائل کی بہو پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور سائل کے بیٹے کیلئے بغیر حلالۂ شرعیہ کے،اس کے ساتھ ازدواجی حیثیت سے رہنا شرعاً درست نہیں، بلکہ حرام کاری ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہو رہے ہیں ، لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئےفوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ وہ از خود یا دیگر بااثر افراد کے ذریعے اپنے بیٹے کو سمجھاکر مذکور طرزِ عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے ،تاہم اگر سائل کا بیٹا سمجھانے کے باوجود بھی اپنے اس فعلِ شنیع سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائل اور اس کے دیگر بیٹوں کیلئے اصلاح کی غرض سے اس سے قطع تعلقی اختیار کرنے کی گنجائش ہے ۔
قال اللہ تعالی{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
و فی تکملۃ فتح الملھم : ثم ان الھجران الممنوع انما ھو ماکان بسبب دنیوی اما اذا کان بسبب فسق المرء و عصیانہ فاکثرالعلماء علی جوازہ اھ (5/356)۔
و فیہ ایضاً : و حاصل ذلک ان الھجران انما یحرم اذا کان جھۃ غضب نفسانی اما اذا کان علی وجہ التغلیظ علی المعصیۃ و الفسق (الی قولہ) فانہ لیس من الھجران الممنوع اھ (5/356)۔